مضامین

عالمی طاقتوں کی نئی صف بندی: ایران–امریکہ جنگ یا تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ؟

ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ 

جنرل سکریٹری ۔ ویمنس ایمپاورمنٹ 

 

دنیا ایک بار پھر تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے، جہاں مشرقِ وسطیٰ کی آگ صرف چند ممالک تک محدود نہیں رہی بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان ایک بڑے تصادم کا پیش خیمہ بنتی جا رہی ہے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اب محض علاقائی تنازعہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر عالمی طاقت کی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جس میں روس، چین اور شمالی کوریا بھی اپنے اپنے مفادات کے تحت کردار ادا کر رہے ہیں۔

امریکہ اور اسرائیل اس جنگ کو ایران کے جوہری پروگرام اور اس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف ایک "دفاعی اقدام” قرار دیتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ جنگ مشرقِ وسطیٰ پر کنٹرول اور عالمی بالادستی کی ایک پرانی کشمکش کا تسلسل ہے۔ امریکہ کے لیے ایران ایک ایسا چیلنج بن چکا ہے جو نہ صرف اسرائیل کی سلامتی بلکہ خطے میں امریکی اثر کو بھی کمزور کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایران کو کسی نہ کسی صورت میں محدود یا کمزور کرنا چاہتا ہے۔

دوسری جانب ایران اس جنگ کو اپنی بقا اور خودمختاری کی جنگ قرار دیتا ہے۔ ایران کے نزدیک یہ صرف سرحدوں کا نہیں بلکہ نظریے اور وقار کا مسئلہ ہے۔ اسی لیے وہ نہ صرف براہِ راست جواب دے رہا ہے بلکہ اپنے اتحادی گروہوں کے ذریعے بھی خطے میں دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے۔

اس تناظر میں روس کا کردار نہایت معنی خیز ہے۔ روس بظاہر اس جنگ میں براہِ راست شامل نہیں، مگر اس کی خاموش حمایت ایران کے ساتھ ہے۔ یوکرین جنگ کے بعد روس کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ امریکہ کو ایک اور محاذ پر الجھا دے۔ اس طرح نہ صرف امریکہ کی طاقت تقسیم ہوگی بلکہ روس کو عالمی سطح پر سانس لینے کا موقع بھی ملے گا۔

چین کی حکمت عملی اس سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے۔ چین بظاہر امن کی بات کرتا ہے، جنگ بندی کی اپیل کرتا ہے، مگر عملی طور پر ایران کو تنہا بھی نہیں چھوڑتا۔ چین کے لیے سب سے اہم اس کی معیشت اور توانائی کی ضروریات ہیں، اور ایران اس کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ لہٰذا چین ایک توازن کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے—نہ کھل کر امریکہ کے خلاف، نہ مکمل طور پر ایران کے ساتھ۔

شمالی کوریا اس پورے منظرنامے میں سب سے واضح اور جارحانہ موقف رکھتا ہے۔ وہ کھل کر امریکہ اور اسرائیل کی مخالفت کرتا ہے اور ایران کی حمایت میں بیانات دیتا ہے۔ اس کا مقصد نہ صرف امریکہ کے خلاف ایک نظریاتی محاذ بنانا ہے بلکہ اپنے جوہری پروگرام کو بھی جواز فراہم کرنا ہے۔

یوں دنیا ایک نئی صف بندی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ایک طرف امریکہ اور اس کے اتحادی ہیں، اور دوسری طرف ایک غیر رسمی مگر مضبوط بلاک ابھرتا دکھائی دے رہا ہے جس میں ایران، روس، چین اور شمالی کوریا شامل ہیں۔ یہ صف بندی اگر مزید مستحکم ہوئی تو دنیا ایک ایسے تصادم کی طرف جا سکتی ہے جس کے اثرات صرف جنگی میدان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، سیاست اور امن سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

یہ سوال اب صرف یہ نہیں رہا کہ جنگ کہاں ہو رہی ہے، بلکہ یہ ہے کہ دنیا کس سمت جا رہی ہے۔ کیا یہ کشیدگی ایک بڑے عالمی تصادم میں بدل جائے گی؟ یا عالمی طاقتیں وقت پر ہوش کے ناخن لے کر ایک تباہ کن انجام سے بچ جائیں گی؟

تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جب طاقت، نظریہ اور مفاد ایک دوسرے سے ٹکرا جائیں تو جنگیں ناگزیر ہو جاتی ہیں۔ اور آج دنیا اسی خطرناک موڑ پر کھڑی ہے—جہاں ایک چنگاری پورے نظام کو جلا سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button