ایران۔اسرائیل تنازعہ کی اصل کہانی: مسلک نہیں، سیاست اور طاقت کی جنگ !

ڈاکٹر نسیم سلطانہ
ایران , اسرائیل کشیدگی
مسلکی تعبیر یا سیاسی حقیقت
جاریہ جنگ کے منظر کو سمجھنے کے لیے پس منظر میں جانا ضروری ہے ۔
یہ مذہب یا مسلک کی جنگ نہیں
ایران , اسرائیل کی جنگ
کی حقیقت ایک بڑے سیاسی، نظریاتی اور جغرافیائی تنازع کا حصہ ہے۔
سب سے پہلے ان نکات کو سمجھ لیں ۔
1. پس منظر: ایران اور اسرائیل کے تعلقات
1979 سے پہلے (یعنی ایران کے انقلاب سے پہلے) (شاہِ ایران محمد رضا شاہ پہلوی جو پہلوی خاندان کے آخری فرماں روا تھے انہوں نے 1941 سے 1979تک ایران پرحکومت کی , ان کے عہد حکومت میں ایران, اسرائیل اور امریکہ کے مفادات کا زبردست حامی تھا جس کے سبب عوام پر بیزاری مسلط ہوگئی اور ایک انقلاب برپا ہوا۔
انقلاب کے بعد:
ایران ایک اسلامی جمہوریہ بن گیا اور اس نے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔
ایران نے اسرائیل کو “غاصب ریاست” کہنا شروع کیا۔
2. رہبر معظم علی خامنہ ای کا کردار
علی خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر تھے، اس لیے ان کی پالیسی سارے ملک کی پالیسی ہوتی تھی ۔
ان کا موقف:
فلسطین کی کھل کر حمایت
اسرائیل کی سخت مخالفت
اسرائیل کو ایک ناجائز ریاست سمجھنا
یہ ذاتی نہیں بلکہ نظریاتی موقف تھا۔
3. فلسطین کا مسئلہ
اصل تنازع فلسطین اور اسرائیل کے درمیان ہے۔
ایران (خصوصاً خامنہ ای):
فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کرتے رہے۔ حماس اور حزب اللہ جیسے گروہوں کی حمایت کرتے ر ہے
4. دشمنی کیوں بڑھی؟
یہ چند بڑی وجوہات ہیں:
1. نظریاتی اختلاف
ایران: اسلامی نظریہ + فلسطین کی حمایت
2۔ اسرائیل کی بڑھتی جارحیت اور بربریت کی مخالفت
3. علاقائی طاقت کی جنگ
اسرائیل اور امریکہ ایران پر زبر دستی اپنا دباؤ بنانا چاہتے ہیں گویا غلام بنانا چاہتے ہیں ۔
4 ۔ ایران , فلسطین اور مشرق وسطی کے لیے مزاحمت کرتا رہا۔
5. فوجی و خفیہ سرگرمیاں
دونوں ایک دوسرے پر حملوں، سائبر وار، اور پراکسی جنگوں میں ملوث رہے ہیں۔
ایران کی جانب سے جنگ بندی کے لیے پیش کیے گئے نکات پر ہونے والی حالیہ تنقید نے ایک بار پھر اس بیانیے کو تقویت دی ہے کہ ایران محض ایک "شیعہ ایجنڈا” کا حامل ہے۔ تاہم ایک سنجیدہ اور غیر جانبدار تجزیہ یہ واضح کرتا ہے کہ یہ مؤقف حقیقت کا مکمل احاطہ نہیں کرتا بلکہ اصل مسئلے کو محدود اور مسخ کر دیتا ہے۔
اس سلسلے میں سب سے اہم موڑ 1979 میں ایران میں رونما ہونے والا انقلاب ہے ۔ اس انقلاب سے قبل ایران اور اسرائیل کے تعلقات دوستانہ تھے، لیکن انقلاب کے بعد ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے خارجہ پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیاں کیں ۔ ایران نے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور نہ صرف کھل کر فلسطین کی حمایت کی بلکہ فلسطین کے مسئلے کو اپنی پالیسی کا مرکزی حصہ بنا لیا۔ یوں یہ تنازع محض دو ریاستوں کے درمیان اختلاف نہیں رہا بلکہ ایک واضح نظریاتی اور سیاسی محاذ آرائی میں تبدیل ہو گیا۔
رہبر معظم علی خامنہ ای کی قیادت میں ایران نے مسلسل فلسطین کے عوام کی حمایت کی ہے۔ ایران کا مؤقف یہ رہا ہے کہ فلسطینیوں کو اپنے حقوق اور آزادی حاصل ہونی چاہیے۔ اس مؤقف کو محض فرقہ وارانہ عینک سے دیکھنا ایک سطحی تجزیہ ہے، کیونکہ فلسطین کا مسئلہ کسی ایک فرقے تک محدود نہیں بلکہ ایک عالمی انسانی اور سیاسی مسئلہ ہے۔
ایران کی اسرائیل مخالفت صرف بیانات تک محدود نہیں رہی بلکہ عملی اقدامات میں بھی ظاہر ہوئی ہے۔ ایران نے حماس اور حز ب اللہ جیسے گروہوں کی حمایت کی، جو اسرائیل کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے اسرائیل ایران کو اپنے لیے ایک بڑا تزویراتی خطرہ تصور کرتا ہے۔ یہ کشیدگی وقت کے ساتھ بڑھتی گئی اور مختلف علاقوں میں بالواسطہ جھڑپوں کی صورت اختیار کر گئی۔
گزشتہ چند برسوں میں یہ تنازع مزید شدت اختیار کر چکا ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، باہمی عدم اعتماد اور علاقائی بالادستی کی کشمکش نے صورتحال کو انتہائی نازک بنا دیا ہے۔ آج جو ممکنہ جنگی ماحول نظر آ رہا ہے، وہ کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل تاریخی عمل کا تسلسل ہے۔
ایسے حالات میں ایران کی جانب سے پیش کیے گئے جنگ بندی کے نکات کو بھی سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک سنجیدہ سفارتی کوشش ہو سکتی ہے، جس کا مقصد کشیدگی کو کم کرنا اور خطے کو مزید تباہی سے بچانا ہے۔ اسے محض فرقہ وارانہ بنیاد پر رد کرنا نہ صرف حقیقت سے انحراف ہے بلکہ امن کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع کو صرف مسلکی زاویے سے دیکھنا ایک بڑی فکری غلطی ہے۔ یہ تنازع نظریاتی اختلاف، علاقائی مفادات کی کشمکش اور فلسطین کے مسئلے کا مجموعہ ہے۔ اس لیے عوام کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کو وسیع اور متوازن تناظر میں سمجھیں تاکہ ایک درست اور باشعور رائے قائم کی جا سکے۔



