مضامین

پہلے نکاح یا پہلے ایجوکیشن اور کیرئیر؟؟؟؟

ڈاکٹرعلیم خان فلکی

صدرسوشیوریفارمس سوسائٹی، حیدرآباد

اِس تصویر کو غور سے دیکھئے۔ بالخصوص وہ لوگ جو لڑکی کی شادی سے پہلے ان کی اعلیٰ تعلیم اور کیرئیر کی خوب وکالت کرتے ہیں۔ اگرچہ کہ یہ لوگ کلمہ نبیﷺ کا پڑھتے ہیں  لیکن ایمان فیمینزم پر رکھتے ہیں۔ اور اس کا عذاب اسی دنیا میں بھگتتے ہیں۔

 

اِس لڑکی کا نام بی بی شاذیہ سراج ہے اور بازو اس کے شوہر کی تصویر ہے جس کا نام بھانوچندرریڈی ہے۔ یہ دونوں سدّی پیٹ کے ہیں جو کہ دین و اخلاق و تہذیب کے مرکز سمجھے جانے والے شہر حیدرآباد سے صرف سو کلومیٹر اور کریم نگر سے ساٹھ کلومیٹر ہے ۔

 

دونوں آئی ٹی کے ٹیکیز ہیں جو بنگلور میں جاب کرتے تھے، اور دونوں نے ایک ساتھ خودکشی کرلی۔ ریڈی نے پھانسی لگالی، یہ دیکھ کر لڑکی نے 17ویں فلور سے چھلانگ لگادی۔ یہ خبر ، NDTV ااور TOI نے بتاریخ 31مارچ 2026 کو شائع کی۔ پولیس تحقیقات کررہی ہے لیکن ہمیں جو تحقیق کرنی ہے وہ یہ کہ کیوں ہر روز ایسی ہی خبریں آرہی ہیں

 

جن میں کلمہ گو لڑکیاں اپنے پیٹ میں مشرکوں کے نطفے پال کے قوم کےبےغیرت ہونے کے اعلان کررہی ہیں۔ بے غیرت تو بہرحال ہم ہیں۔ ایسی خبریں سن کر شرمندہ تو نہیں ہوتے البتہ حقارت سے کوئی استغفراللہ پڑھتا ہے کوئی ماں باپ کی غلط تربیت پر کوئی ایمان کی کمزوری اور دینی تعلیم کے فقدان پر تبصرہ کرکے دامن جھاڑ لیتا ہے۔

 

اُس جُرم کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کرتا جس میں یہ خود بھی شریک ہے  جس کے نتیجے میں ہر روز کئی لڑکیاں دین و قوم کو خداحافظ کہہ رہی ہیں۔ لیکن یاد رکھئے یہ واقعات آج شہر سے باہر ہورہے ہیں، کل محلّے کے اندر ہوں گے اور پرسوں آپ کے خاندان میں ہوں گے۔ مگرافسوس کہ ہر شخص اُس وقت تک اطمینان سے انتظار کررہا ہے جب تک یہ آگ اُس کے گھر تک نہیں پہنچتی۔

 

اگرآپ اپنی لڑکیوں کی حیا، عصمت و عزت بچانا چاہتے ہیں تو آپ کے پاس دو رہی راستے ہیں۔

۱۔ انگریزوں کا دیا ہوا مکمل فیمینزم کا راستہ

لڑکےلڑکیوں پر شادی کی کوئی قید نہیں۔ وہ چاہے جتنی ایجوکیشن حاصل کریں، جو چاہیں کیریئر بنائیں۔ چاہے جس کے ساتھ رہیں، جب چاہیں انہیں چھوڑدیں، چاہے ابورشن کروائیں چاہیں بچے پیدا کریں۔ ماں باپ پر اولاد کے 18 سال کے ہوجانے کے بعد کوئی ذمہ داری نہیں ہوتی اور نہ ماں باپ کولڑکیوں کے جوڑے جہیز کے لئے اور نہ

 

ان کی طلاق یا زچگی کے اخراجات کےلئے پریشان ہونا پڑتا ہے۔ آپ یقیناً اِسے ایک بدکار، گنہگار اور گمراہ معاشرہ کہہ سکتے ہیں، لیکن بہرحال وہاں ایجوکیشن اور کیریئر شاندار ہوتا ہے، اسی وجہ سے لوگ انگریزوں اور یہودیوں کے طرزِ زندگی کو غلط توکہتے ہیں لیکن ’’سوالِ سجدہ جب آیا تو در اُسی کا رہا ‘‘

 

کے مصداق اپنے لڑکے لڑکیوں کے شاندار مستقبل کے لئے انہیں اسی امریکہ، کینیڈا یا انگلینڈ بھیجنے کی تمنّا کرتے ہیں۔ اسی لئے امریکہ کینیڈا وغیرہ میں سینکڑوں مسلمان اپنی لڑکیوں اور لڑکوں کی اخلاقی تباہی پر پریشان ہیں۔

۲۔ اسلام کا راستہ

 

اسلام لڑکیوں کو نہ ایجوکیشن سے روکتا ہے اور نہ کیریئر بنانے سے۔لیکن ایک شرط یہ رکھتا ہے کہ ’’بالغ ہونے کے بعد پہلے نکاح‘‘۔ تاکہ لڑکیوں کی حیا اور عصمت پہلے حفاظت میں آجائے اور اس کے بعد وہ جتنا چاہیں ایجوکیشن حاصل کریں اور نوکریاں کریں۔ اگر شوہر پڑھانے کی استطاعت نہیں رکھتا تو لڑکی کے

 

ماں باپ خرچ اٹھائیں۔ بچے دو چار سال بعد پیدا ہوں تو کوئی قیامت نہیں آجائیگی۔ شادی کے فوری بعد ہمارے ہاں بچے پیدا کرنے کی جو سخت روایت ہے، یہی وجہ ہے لڑکیاں فرار حاصل کررہی ہیں، اور کیرئیر کونکاح پر ترجیح دے رہی ہیں۔

 

لیکن ہماری سادہ لوح اکثریت دونوں کشتیوں پر ایک ایک پاؤں رکھ کر دریا پار کرنا چاہتی ہے۔ وہ لڑکیوں کو پہلے انگریزوں کے راستے پر ڈال کر پھر انہیں اسلام کے راستے پر کھینچ کر لانا چاہتی ہے۔ یہ کھلی منافقت ہے ۔ دو مکمل الگ الگ کلچر ہیں، آپ دونوں سے بیک وقت فائدہ اٹھانے کی ہوس میں اپنی لڑکیوں کو ہی نہیں پوری امت کو نقصان پہنچارہے ہیں۔ علامہ اقبال نے شائد اسی لئے کہا کہ:

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی

جوشاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا

 

یوں تو سنّت کی پابندی کے بہت سےسے ڈرامے دیکھنے میں آتے ہیں، ایسی کئی سنّتیں ہیں جس پر لوگ اڑ جاتے ہیں ، لیکن حیرت ہوتی ہے کہ یہ لوگ اسی نبیﷺ کے اس فرمان پر ہرگز عمل کرنا نہیں چاہتے جس میں کفو مل جانے کے بعد پہلی فرصت میں نکاح کردینے کا حکم ہے۔ یہ تیسرا راستہ جو منافقت کا ہے، یہی وہ سبب ہے کہ مسلمان لڑکیاں گھروں سے بھاگ کر مشرکوں کے بستر گرم کررہی ہیں۔ یہ سلسلہ اب رکنے والا نہیں ہے۔ کیونکہ:

 

پہلی وجہ : جتنی دیر میں لڑکی ایجوکیشن مکمل کرکے کیرئیر کا آغاز کرے گی، وہ عمر کے تیس سال کے قریب پہنچ جائے گی۔ آج کسی بھی رشتے لگانے والے آفس میں جاکر دیکھئے، ایجوکیٹید لڑکیاں ساری کی ساری تیس سال کراس کرچکی ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ لڑکے بھی سیٹ ہونے تک اسی عمر کو پہنچ جاتے ہیں، لیکن جب ان کے لئے لڑکیوں کی تلاش شروع ہوتی ہے تو اِن کی ماؤں کو بیس بائیس سال کی بہوچاہئے، تب یہ تیس سال کی لڑکیاں کہاں جائیں گی؟

 

دوسری وجہ : آج لڑکیوں کی اکثریت لڑکوں سے زیادہ ایجوکیٹیڈ اور کیرئیر اورینٹیڈ ہے۔ ان کی تنخواہ لڑکوں سے کہیں زیادہ ہے۔ اب ان لڑکیوں کی میچنگ کہاں ملے گی؟ مسلمانوں میں تو ملنا مشکل ہے پھر یہ لڑکیاں شازیہ سراج کی طرح کسی ریڈی کو تلاش نہیں کرینگی تو اور کیا کرینگی؟ لڑکی کو آگے پڑھانے سے پہلے آپ نے کیوں نہیں سوچا کہ لڑکی زیادہ پڑھ لے گی تو پھر اس کا میچنگ کوئی نہیں ملے گا اور آپ ہی بعد میں ذلیل ہوں گے؟

 

تیسری وجہ : اگر فرض کریں کسی لڑکی کو اس کی قابلیت کے مطابق میچنگ کا لڑکا مل بھی گیا تو اس کی قیمت یعنی جوڑا جہیزکھانا وغیرہ بہت زیادہ ہوگی جو کہ لڑکی والے ادا نہیں کرسکیں گے۔ اب لڑکیاں ایسا راستہ تلاش کرنے پر مجبور ہوجائیں گی جس سے وہ اپنے ماں باپ پر بوجھ نہ بنیں۔ اسلام دشمن فاشسٹ تنظیمیں تو ایسی لڑکیوں کے شکار میں گھات لگائے بیٹھے ہیں، وہ موقع کا فائدہ اٹھائیں گے۔

 

چوتھی وجہ : اگر کوئی لڑکا پسند آبھی جائے تو اس کا گھر کرائے کا ہوتا ہے، اس کی تنخواہ لڑکی سے کم ہوتی ہے۔ کیا لڑکی اور اس کی ماں کی انا یہ گوارا کرتی ہے کہ لڑکی کو اپنے معیار سے کم کے لڑکے کو دے کر لڑکی کو اس کے کزنس اور دوستوں کے درمیاں شرمندہ کیا جائے؟ اس لئے لڑکیاں لائف اسٹائیل کی خاطر اچھے لڑکوں کو ٹھکرا کر خود بھی ٹھوکر کھاتی ہیں۔

 

آخری وجہ : بیس بائیس سال کی عمر کی شادی میں دونوں کم عمر اور کم تجربہ ہوتے ہیں۔ لڑتے بھی ہیں، سوری کہہ لیتے ہیں اور جلد صلح کرلیتے ہیں جس سے محبت دگنی ہوجاتی ہے۔ لیکن تیس بتیس سال کی عمر تک جب کہ جوانی کے مزے کا اصل دور ختم ہوچکا ہوتا ہے اور محض ایک دوسرے کو گوارا کرلینے کی عمر ہوتی ہے ایسے وقت میں دونوں کی انا بہت اونچی ہوتی ہے۔ لڑکا سوری نہیں کہتا بلکہ ہاتھ یا زبان چلاتا ہے۔ لڑکی بھی سوری نہیں کہتی بلکہ سامان اٹھا کر مائیکے آجاتی ہے۔ کسی بھی پولیس اسٹیشن ، وکیل یا قاضی کے دفتر پر جاکر دیکھئے سب سے زیادہ طلاق، خلع اور علٰہدہ رہنے کے واقعات سب سے زیادہ مسلمانوں کے ہیں۔

 

حل: صرف اسلامی راستے میں سلامتی ہے۔ لڑکی کی انٹرمیڈیٹ کے فوری بعد شادی کیجئے۔ لڑکے والوں سے معاہدہ کرلیجیئے کہ لڑکی اپنی تعلیم جاری رکھے گی، تعلیم کا خرچ اگر ضروری ہوا تو لڑکی والے ادا کریں گے۔ بچے پیدا کرنے کا فیصلہ میاں بیوی اپنے کمرے میں کریں گے  نہ کہ خاندان کے بڑے۔ شادی مکمل سنّت کے مطابق ہوگی، یعنی کوئی بدعت جیسے منگنی اور بارات کا کھانا، جوڑے کی رقم، خوشی سے جہیز وغیرہ نہیں ہوں گے۔ ایسے ہی نکاح کو نبیﷺ نے سب سے آسان اور برکت والا کہا ہے ، اگر خوب خرچ کیا جائے تو وہ بالعکس کہلائیگا یعنی بدترین اور بے برکت نکاح۔

 

شادی سے پہلے پِری میریج کونسلنگ ضرور کروائیں، جس کی وجہ سے شادی کے بعد 50%سے زیادہ جھگڑے جو پیدا ہوتے ہیں، وہ پیدا ہونے سے پہلے ہی ختم ہوجاتے ہیں۔ ہم بھی اس سلسلے میں مدد کرسکتے ہیں۔

 

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button