نفرت کی انتہا – کیا سپریم کورٹ ہیمنت بسوا شرما کی زبان پر لگام کسے گا؟

تحریر:سید سرفراز احمد
"کیا سپریم کورٹ کو یہ نظر آۓ گا”؟ یہ سوال معروف صحافی رویش کمار نے ایکس پر ہیمنت بسوا شرما کی زہر افشانی پر سپریم کورٹ سے پوچھا ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا کہ بسوا شرما کی نفرت انگیزی تو وزیراعظم کو دکھائی ہی نہیں دیتی۔ایسے ہی بہت سے سوالات سوشیل میڈیا کے مختلیف پلیٹ فارمس پر بسوا شرما کی مسلمانوں کے تیئں زہر افشانی کو لے کر ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ سے پوچھے جارہے ہیں۔ان سب سوالوں کو دیکھ کر ایک اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان سوالات کے جوابات کون دے گا ؟ظاہر ہے جب زہر افشانی کرنے والا اپنے منہ سے نفرت اگلتا ہے تو اس سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس کو نہ اس ملک کے قانون کا ڈر ہے اور نہ ہی سزا کا۔ وہ بھی ایک ایسا شخص جو آئینی عہدے پر بیٹھا ہو جو یہ عہد لیتا ہے کہ میئں تمام مذاہب کے ساتھ مساویانہ سلوک کروں گا۔ یہ عہد شکنی ہی نہیں بلکہ اس ملک کے دستور کی دھجیاں اڑانے کے مترادف کہا جاۓ گا۔نفرتی پروانے تو نفرت کے گن گانے میں اتنے آگے نکل چکے ہیں کہ اب وہ کھلے عام اپنی زبان کو تلوار سے بھی تیز چلارہے ہیں۔جس کا گہرا اثر اس ملک کے بین مذہبی سماج پر پڑتا ہے اور سماج میں بد امنی کی نوبت پیدا ہوجاتی ہے۔لیکن پھر بھی سوال نفرت کے پروانوں سے نہیں ہے کہ وہ نفرت کرنا کب بند کریں گے۔بلکہ سوال تو اس ملک کے قانون اور قانون کے چلانے والوں سے ہے کہ وہ زہر افشانی کی انتہا پار کرنے والے مریضوں کا صحیح علاج کب کریں گے؟
دراصل آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما نے آسام کے تن سکیا ضلع میں ایک تقریب کے دوران اور پھر میڈیا کے ذریعہ آسامی مسلمانوں کے تیئں اس قدر زہر اگلا کہ جس کی کوئی انتہاء باقی نہ رہی۔ ویسے تو ہیمنت بسوا شرما وقفہ وقفہ سے زہر افشانی کرتے رہتے ہیں۔لیکن اس بار انھوں نے حد سے تجاوز کرکے اپنے آپ کو دیش کا سب سے بڑا نفرتی قائد کے طور پر پیش کیا ہے۔ وہ آسام کے مسلمانوں کو میاں مسلمان کا لقب دیتے ہوۓ کہہ رہے ہیں کہ ہماری یہ زمہ داری ہے کہ ہم مسلمانوں کے لیئے پریشانی کا باعث بنیں۔انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مسلمانوں کو جس قدر ستا سکتے ہیں انھیں ستائیں تاکہ وہ ریاست چھوڑنے پر مجبور ہوجائیں۔ شرما عوام کو اکساتے ہوۓ کہہ رہے ہیں کہ مسلمانوں کو معاشی طور پر ہراساں کرنے کا کام کریں۔ اس کی ایک مثال دیتے ہوۓ کہا کہ اگر وہ رکشے کا کرایہ پانچ روپیئے مانگے تو انھیں چار روپیئے دیئے جائیں۔یہ بھی کہتے ہیں کہ میاں مسلمان کو ستانا بی جے پی کا ایجنڈہ ہے۔ان کا دعویٰ ہے کہ آسام میں ایس آئی آر کے ذریعہ چار تا پانچ لاکھ میاں مسلمانوں کے ناموں کو حذف کیا جاۓ گا۔شرما نے بی جے پی کارکنوں کو ہدایت دی کہ وہ ایس آئی آر کے دوران فارم 7 کا استعمال کرتے ہوۓ ذیادہ سے ذیادہ میاں مسلمانوں کے خلاف اعتراضات داخل کریں۔تاکہ وہ در در بھٹکتے رہیں۔واضح رہے کہ فارم 7 ایس آئی آر کے دوران فہرست راۓ دہندہ گان میں سے کسی کے نام کی مخالفت کے لیئے استعمال کیا جاتا ہے۔
آسام میں عنقریب اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔پچھلے پانچ سالوں سے برسر اقتدار میں رہتے ہوۓ بسوا شرما نے فرقہ واریت اور مسلم مخالف ایجنڈے پر اپنی سیاسی طاقت کا بھر پور استعمال کیا۔ جس میں آسام کی ترقی کا دور دور تک نام و نشان نہیں ہے۔اسی بوکھلاہٹ کا شکار بسوا شرما نے نفرت کا پرچار کرتے ہوۓ جارحانہ رویہ کو اپنی طاقت کا حصہ بنا رہے ہیں۔ پورے ملک نے دیکھا کہ کس طرح بسوا شرما نے اپنے دور حکمرانی میں مسلم آبادیوں کو بلڈوزر کی طاقت سے کچل دیا۔ مدارس اسلامیہ کو زمین بوس کرتے ہوۓ ظلم کا ننگا ناچ کھیلا گیا۔شرما نے قول اور فعل سے آسامی مسلمانوں کو اس قدر ستایا کہ کئی ایک مسلمانوں کو درانداز یا بنگلہ دیشی بتاکر حراستی کیمپ میں بھی ڈالا گیا۔ حالاں کہ سپریم کورٹ نے بلڈوزر کاروائی پر کئی بار ریاستی حکمرانوں کو لگام بھی کسی۔ لیکن کسی بھی بھاجپائی وزیر اعلیٰ کے سر پر جوں تک نہیں رینگی۔سوال یہ ہے کہ آسام میں چار تا پانچ لاکھ مسلمانوں کو راۓ دہندہ گان فہرست سے حذف کرنے کا کام الیکشن کمیشن کرے گا یا ہیمنت بسوا شرما کی سرکار؟ کیوں کہ دعویٰ تو ہینمت بسوا شرما کر رہے ہیں اور یہ دعویٰ کس بنیاد پر کر رہے ہیں؟ کیا الیکشن کمیشن بسوا شرما کو نوٹس بھیجے گا؟ اسی میں ایک اور دل چسپ پہلو یہ بھی ہے کہ خود ہیمنت بسوا شرما کہتے ہیں کہ ایس آئی آر کے ذریعہ آسام میں جو نوٹس جاری کی جارہی ہے وہ صرف میاں مسلمانوں کو دی جارہی ہے۔نہ کہ ہندوؤں کو، یہاں یہ سوال بھی کھڑا ہورہا ہے کہ کیا نوٹسیں شرما کی سرکار جاری کر رہی ہیں یا الیکشن کمیشن؟ یا پھر الیکشن کمیشن کی پیٹھ پر بسوا شرما کی سرکار سوار ہے؟
میاں مسلمانوں کو نوٹسیں جاری کرنے کا بیان خود بسوا شرما دے رہے ہیں اس سے یہ ثابت ہورہا ہے کہ ایس آئی آر الیکشن کمیشن کے مطابق نہیں بلکہ بھاجپا سرکار کی منشاء کے مطابق ہورہا ہے۔یہی وہ جھول ہے جس کو اپوزیشن اتحاد ووٹ چوری کا نام دے رہی ہے۔ لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ الیکشن کمیشن ایس آئی آر کو صرف حکمران جماعت کے دباؤ میں کر رہا ہے۔اگر ایس آئی آر الیکشن کمیشن کی منشاء کے مطابق شفاف طریقے سے ہوتا تو بھاجپا کی سیاسی گلیاروں میں بھی تذبذب کا طوفان کھڑا ہوجاتا۔ابھی تو بھاجپا اتنی پر سکون ہے کہ اس کے سیاسی مفادات کو ایک آئینی ادارہ اس کی گودی میں بیٹھ کر انجام دے رہا ہے۔جس کا اہم ہدف صرف مسلمان ہیں تاکہ اس کے ذریعہ سے اپوزیشن کے ووٹ بینک کو ختم کیا جاۓ اور یہ ہمیشہ منصب پر فائز رہے۔ اگر ہم ہیمنت بسوا شرما کی جارحانہ نفرت جائزہ لیں گے تو پتہ چلتا ہے کہ اس کے پیچھے سیاسی مفادات کی تکمیل کے علاوہ دوسری کوئی وجہ نہیں ہے۔ شائد آسام کے وزیر اعلیٰ کو اپنی ہی ریاست میں دوبارہ اقتدار میں آنے کا خوف سر پر منڈلا رہا ہے۔ اسی بوکھلاہٹ میں وہ اکثریتی طبقہ کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیئے بنگلہ دیشی مسلمانوں کے نام کا سہارا لے رہے ہیں۔تاکہ نفرت کو بانٹا جاۓ ہندوؤں کو اکسایا جاۓ اور گدی کی راہ ہموار کی جاۓ۔
لیکن ہیمنت بسوا شرما کو اس بار گدی حاصل کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ ایک آگ کا دریا عبور کرنا ہوگا۔آسام میں کل 126 اسمبلی حلقے ہیں جس میں سے 20 اسمبلی حلقے قبائلی طبقہ کے لیئے محفوظ ہے۔اور 30 اسمبلی حلقوں میں مسلمان اکثریت میں پاۓ جاتے ہیں۔جادوئی ہندسہ عبور کرنے کے لیئے 63 اسمبلی حلقوں پر جیت پار کرنی ہوگی۔سال 2021 میں بھاجپا نے 60 سیٹیں جیت درج کرائی تھی
۔اور کچھ علاقائی چھوٹی پارٹیوں کے اتحاد سے سرکار بنائی تھی۔وہیں پر کانگریس اور اس کی اتحادی جماعتوں نے 50 سیٹیں جیتی تھی۔اس طرح اگر حساب لگایا جاۓ تو آنے والے آسام کے اسمبلی انتخابات کا اونٹ کسی بھی کروٹ بیٹھ سکتا ہے۔ ہیمنت بسوا شرما اسی تذبذب کا شکار ہیں کہ انھوں نے پچھلے پانچ سالوں میں سواۓ نفرت بانٹنے کے علاوہ دوسرا کوئی کام نہیں کیا۔اگر عوام کو نفرت نہیں کام چاہیئے اگر عوام کو فرقہ پرستی نہیں روزگار چاہیئے اگر عوام کو ہندو مسلم نہیں ترقی چاہیئے تو ضرور اس بار آسام میں تبدیلی آۓ گی۔
موجودہ بھارت میں اس وقت مشرق سے مغرب شمال سے جنوب تک صرف اور صرف نفرت کا ڈنکا بج رہا ہے۔نسلی تعصب اور امتیاز نے عام عوام کے دلوں کو بھی گھیر رکھا ہے۔ ہجومی تشدد ، وندے ماترم ،درانداز،نفرتی بھاشن، وغیرہ وغیرہ کے ذریعہ مسلمانوں کو ستانے کا کام عروج پر ہے۔لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ اس کی فکر اندرون ملک نہ کے برابر ہے۔ لیکن عالمی سطح پر بھارت میں چل رہے نسلی امتیاز کو لے کر کئی بات تشویش کی جاتی رہی اور اس بار عالمی ادارہ یونائیٹیڈ نیشن (یو این) نے بھارت میں چل رہے نسلی امتیاز کو لے کر بھارت سرکار سے سوالات پوچھے تھے جس کا بھارت کی طرف سے کوئی ٹھوس جواب نہیں دیا گیا۔
یو این کی جانب سے دوبارہ نوٹس بھیجی گئی۔ ایسے میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یونائیٹیڈ نیشن کچھ کاروائی کرے یا نہ کرے یہ ایک الگ بحث ہے۔ لیکن عالمی سطح پر بھارت کی بدنامی اور اس کی ساکھ بری طرح سے متاثر ہورہی ہے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ بھارت میں نسلی امتیاز سب سے ذیادہ آسام میں ہی بنگلہ دیشی مسلمانوں کے خلاف ہوتا ہے۔ جس کا مطلب صاف ہے کہ ہیمنت بسوا شرما نے عالمی سطح پر بھارت کی آبرو اور اس کی ساکھ کو ملیامیٹ کرنے کا کام کر رہے ہیں۔لیکن بھاجپا کے مرکزی قیادت کی مجرمانہ خاموشی سے کیا اس ملک کا کچھ بھلا ہوگا؟
کئی سوالات کے بیچ جو سوال عوام کے زہنوں میں الجھن بنا ہوا ہے وہ اہم سوال یہی ہے کہ بھارت میں نسلی تعصب کو لے کر جو تشویش بیرون ملکی اداروں کو ہو رہی ہے وہ تشویش اور فکر بھارتی آئینی اداروں کو کیوں نہیں کھاۓ جارہی ہے؟ ہم دیکھ چکے ہیں کہ دراندازی کے نام پر وزیر اعظم سے لے کر ہر نچلے درجہ کا بھاجپائی قائد بھی نفرت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا ہے۔لیکن آئینی اداروں کی جانب سے کاروائی تو دور کی بات ہے تشویش بھی نہیں جتائی جارہی ہے۔کیا آئینی اداروں کو شب و روز کے منظر نامے نظر نہیں آرہے؟ یا پھر آئینی اداروں کے بڑے بڑے عہدوں پر فائز عہدیداروں پر سرکار کی گرفت ہے؟ جو سوالات کبھی عوام کے زہن میں نہیں آیا کرتے تھے لیکن اب صورت حال ہی کچھ ایسی ہوچکی ہے کہ عام زہنوں میں بھی ایسے سوالات پیدا ہونا شروع ہوچکے ہیں۔
کیوں کہ اس ملک کی رعایا دیکھ رہی ہے کہ آئینی عہدوں پر فائز حکمران کھلے عام زہر افشانی کر رہے ہیں اور اس پر آئینی ادارے خاموش ہیں تو آخر اس خاموشی کو آخر ملک کی عوام کس زوایہ سے دیکھیں؟آسام کے وزیر اعلیٰ ہینمت بسوا شرما جو آئین کی قسم کھاکر عہدہ تو حاصل کرچکے ہیں لیکن سماج میں زہر پھیلا کر اسی آئین کے پرخچے اڑا رہے ہیں۔ اور آئین کا تحفظ کرنے والے سرکاری ادارے خاموش رہیں تو کیا یہ بھارتی آئین کی توہین نہیں کہلاۓ گی؟ اگر نفرتی پروانوں کو کھلا چھوڑدیا جاۓ اور اگر لگام نہ کسی جاۓ تو اس سے سماج میں بد امنی پھیلتی جاۓ گی۔ ایسے میں عوام کی توقعات اور امیدیں عدلیہ سے وابستہ ہوتی ہیں۔کہ عدلیہ ہی زہر افشانی کرنے والوں پر قانونی کاروائی کرتے ہوۓ ان کی زبان پر لگام لگاسکتی ہے۔تاکہ پھر کوئی دوسرا زہر افشانی کرنے کا کام نہ کرسکیں۔ایسے میں ہیمنت بسوا شرما کی زہر افشانی پر بھی سماج میں خوف پھیلانے کا کام کر رہی ہے تو ایسے میں سپریم کورٹ کو کیا خاموش رہنا چاہیئے؟
پرشانت بھوشن نے صحیح نشان دہی کرتے ہوۓ کہا کہ اگر قانون کا صحیح نفاذ ہوتو ہیمنت بسوا شرما جیل میں ہوں۔ جب ملک کے عظیم دانشواران و صحافی سے لے کر عام آدمی ایسے سوالات اٹھا رہا ہے تو اب سب کی نظریں اسی عدالت اعظمیٰ پر ٹکی ہوئی ہیں کہ کیا سپریم کورٹ ہیمنت بسوا شرما کی زبان پر لگام کسے گا؟



