مضامین

بڑھتی کشیدگی، عالمی صف بندی اور جنگ کا حقیقی منظرنامہ

ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ 

صدر نشین آل انڈیا علماء بورڈ

دنیا اس وقت ایک ایسے بحران سے گزر رہی ہے جہاں جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اتحادوں، مفادات اور دوہرے معیاروں سے لڑی جا رہی ہے۔ یہ تنازع اب کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہا، بلکہ ایک ایسی صورت اختیار کر چکا ہے جہاں ہر ملک کسی نہ کسی درجے میں شامل ہے—کھل کر یا خاموشی سے۔

پہلا مرحلہ: مرکزی طاقتیں اور کھلا کردار

سب سے آگے امریکہ / ریاست ہائے متحدہ ہے، جو اس پورے منظرنامے میں فیصلہ کن کردار ادا کر رہا ہے۔ اس کی حکمتِ عملی براہِ راست جنگ کے بجائے دباؤ، پابندیوں اور محدود فوجی کارروائیوں پر مشتمل ہے۔ اس کے ساتھ اسرائیل کھڑا ہے، جو عملی میدان میں نمایاں اور جارحانہ کردار ادا کر رہا ہے، اور جس پر براہِ راست حملوں کا خطرہ بھی موجود ہے۔

ان دونوں کے ساتھ برطانیہ شامل ہے، جو ابتدا میں محتاط رہا مگر اب محدود تعاون، خفیہ معلومات اور دفاعی سہولتوں کی فراہمی کے ذریعے حصہ لے رہا ہے۔

دوسرا مرحلہ: خاموش مگر مؤثر اتحادی

خلیجی خطے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسے ممالک ہیں جو کھل کر میدان میں نہیں آتے، مگر ان کی سرزمین، فضائی حدود اور تزویراتی حیثیت اس تنازع میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اسی طرح جارڈن بھی جغرافیائی اور تزویراتی لحاظ سے امریکہ کے قریب کھڑا ہے، اگرچہ اس کا کردار زیادہ تر پسِ پردہ ہے۔

یورپ میں فرانس سفارتی سطح پر امریکہ کے قریب ہے اور ممکنہ طور پر محدود تعاون فراہم کر سکتا ہے۔

تیسرا مرحلہ: توازن برقرار رکھنے والے ممالک

ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جو بیک وقت امریکہ اور ایران دونوں سے تعلقات رکھتا ہے، اس لیے وہ کھل کر کسی ایک فریق کے ساتھ نہیں آتا بلکہ توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔

اسی طرح ترکی ایک پیچیدہ پالیسی پر عمل پیرا ہے—وہ ایک طرف مغربی اتحاد کا حصہ ہے، تو دوسری طرف خطے کے ممالک سے اپنے تعلقات بھی قائم رکھتا ہے۔

چوتھا مرحلہ: ایران اور اس کے حقیقی اتحادی

دوسری طرف ایران ہے، جو اس تنازع کا مرکزی فریق ہے، مگر اس کے ساتھ روایتی عالمی اتحاد موجود نہیں۔

اس کے سب سے فعال اتحادی علاقائی سطح پر ہیں، جن میں یمن کے حوثی، لبنان کی حزب اللہ، اور عراق کے کچھ ایران نواز گروپس شامل ہیں، جو مختلف محاذوں پر دباؤ بڑھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ریاستی سطح پر سیریا ایران کا قریبی اتحادی ہے اور اس کی سرزمین تزویراتی اہمیت رکھتی ہے۔

پانچواں مرحلہ: بڑی طاقتیں—مگر محدود کردار

روس اور چینا ایران کے قریب سمجھے جاتے ہیں، مگر ان کا کردار زیادہ تر سفارتی اور معاشی سطح تک محدود ہے۔ یہ دونوں ممالک براہِ راست جنگ میں شامل ہونے سے گریز کر رہے ہیں، کیونکہ اس کے نتائج عالمی سطح پر نہایت خطرناک ہو سکتے ہیں۔

اسی طرح وینیزویلا ایران کی سیاسی حمایت کرتا ہے، مگر اس کا کردار علامتی نوعیت کا ہے۔

چھٹا مرحلہ: شمالی کوریا کا کردار

شمالی کوریا کا کردار اس تنازع میں براہِ راست نہیں مگر بالواسطہ اور تزویراتی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ ملک امریکہ مخالف پالیسی رکھتا ہے اور ایران کے ساتھ عسکری و تکنیکی تعاون کی خبریں ماضی میں سامنے آتی رہی ہیں۔

شمالی کوریا کھل کر جنگ میں شامل ہونے کا امکان نہیں رکھتا، مگر:

عسکری تجربات

میزائل ٹیکنالوجی

اور سیاسی حمایت

کے ذریعے وہ ایران کے لیے ایک پسِ پردہ قوت کی حیثیت رکھتا ہے۔

ساتواں مرحلہ: جنگ کی اصل نوعیت

یہ تنازع روایتی جنگ نہیں بنے گا بلکہ مختلف محاذوں پر پھیل جائے گا۔ لبنان، یمن، عراق اور دیگر علاقوں میں چھوٹے مگر شدید تصادم سامنے آ سکتے ہیں۔ یہی وہ طرزِ جنگ ہے جو طویل، پیچیدہ اور غیر یقینی نتائج کا حامل ہوتا ہے۔

آٹھواں مرحلہ: نقصان کس کا؟

سب سے زیادہ فوری نقصان ایران کو اٹھانا پڑ سکتا ہے، کیونکہ اس کی معیشت اور بنیادی ڈھانچہ پہلے ہی دباؤ میں ہے۔ اسرائیل مسلسل خطرات اور حملوں کے دباؤ میں رہے گا۔ امریکہ کو مالی اور سیاسی قیمت ادا کرنا پڑے گی، جبکہ خلیجی ممالک بھی غیر یقینی صورتحال سے متاثر ہوں گے۔

مگر سب سے بڑا نقصان پوری دنیا کو ہوگا—توانائی کی قیمتیں بڑھیں گی، مہنگائی میں اضافہ ہوگا، اور عالمی معیشت عدم استحکام کا شکار ہو جائے گی۔

حتمی حقیقت

یہ جنگ کسی ایک ملک کی نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی عکاسی ہے جہاں طاقت اور مفاد قانون اور انصاف پر غالب آ چکے ہیں۔ یہاں اصول نہیں بلکہ طاقت فیصلہ کرتی ہے، اور یہی اس عہد کا سب سے بڑا المیہ ہے۔

“یہ جنگ ہتھیاروں کی کم، اور معیاروں کی زیادہ ہے—

جہاں کچھ کے لیے سب کچھ جائز ہے، اور کچھ کے لیے جائز بھی جرم بن جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button