مضامین

سات دن جو مشرقی وسطی کا نقشہ بدل سکتے ہیں

ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ

صدرنشین آل انڈیا علماء بورڈ، ایجوکیشن ونگ تلنگانہ

 

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے ایسے موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں ایک چنگاری پورے خطے کو آگ میں جھونک سکتی ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی صرف دو ملکوں کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ عالمی سیاست، معیشت اور سلامتی کے لیے ایک بڑا سوال بن چکی ہے۔ دنیا بھر کے ماہرین اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ اگر یہ کشیدگی مکمل جنگ میں تبدیل ہو گئی تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو ہلا سکتے ہیں۔

ممکنہ عالمی صف بندی

اگر ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست جنگ شروع ہوتی ہے تو دنیا کے کئی ممالک فوری طور پر مختلف کیمپوں میں نظر آ سکتے ہیں۔

ایران کے قریب سمجھے جانے والے ممالک:

– ایران

– روس

– چین

– شمالی کوریا

– شام

 

اس کے علاوہ خطے میں کچھ غیر ریاستی گروہ بھی ایران کے حامی تصور کیے جاتے ہیں جیسے:

– حماس

– حزب اللہ

اسرائیل کے ممکنہ حامی ممالک:

– اسرائیل

– امریکہ

– برطانیہ

– فرانس

– جرمنی

 

یہ ممالک عموماً اسرائیل کو عسکری، سفارتی اور انٹیلی جنس تعاون فراہم کرتے ہیں۔

 

محتاط یا متوازن پالیسی رکھنے والے ممالک:

– بھارت

– ترکی

– سعودی عرب

– قطر

– متحدہ عرب امارات

یہ ممالک اکثر کسی ایک فریق کے ساتھ مکمل طور پر کھڑے ہونے کے بجائے سفارت کاری اور ثالثی کو ترجیح دیتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ بڑی عالمی طاقتیں کسی بھی صورت میں مکمل عالمی جنگ سے بچنا چاہتی ہیں کیونکہ ایٹمی ہتھیار، عالمی تجارت اور عالمی دباؤ کسی بھی بڑے تصادم کو انتہائی خطرناک بنا سکتے ہیں۔ اسی لیے اکثر ایسی جنگیں محدود یا پراکسی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔

جنگ کے پہلے سات دن: فیصلہ کن لمحات

اگر خدانخواستہ ایران اور اسرائیل کے درمیان مکمل جنگ شروع ہو جائے تو ابتدائی دن انتہائی اہم ہوں گے۔

پہلا مرحلہ: پہلے 24 گھنٹے

ابتدائی مرحلے میں ایران سینکڑوں بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغ سکتا ہے۔ اسرائیل اپنے جدید دفاعی نظام کے ذریعے انہیں روکنے کی کوشش کرے گا۔ فوجی اڈے، ایئر بیس اور اسٹریٹجک تنصیبات ابتدائی اہداف بن سکتے ہیں جبکہ پورے خطے میں ہنگامی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

دوسرا مرحلہ: دن 2 تا 3

جنگ کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے۔ لبنان سے حزب اللہ اسرائیل پر راکٹ حملے شروع کر سکتی ہے جبکہ غزہ سے حماس بھی کارروائیاں تیز کر سکتی ہے۔ اس کے جواب میں اسرائیل لبنان اور غزہ میں فضائی حملے کر سکتا ہے اور یوں جنگ علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

 

تیسرا مرحلہ: دن 4 تا 5

اس مرحلے میں عالمی طاقتوں کی سرگرمی بڑھ سکتی ہے۔ امریکہ اپنے جنگی بحری بیڑے مشرقِ وسطیٰ کی جانب بھیج سکتا ہے جبکہ روس اور چین سفارتی دباؤ یا محدود حمایت کے ذریعے صورتحال پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اسی دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔

چوتھا مرحلہ: دن 6 تا 7

اقوام متحدہ فوری جنگ بندی کی کوشش کرے گا۔ دنیا کے مختلف ممالک میں جنگ کے خلاف مظاہرے شروع ہو سکتے ہیں۔ سب سے بڑا خدشہ آبنائے ہرمز کی بندش کا ہو سکتا ہے جس سے عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

 

اسرائیل کی عسکری طاقت

اسرائیل کے پاس جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ایسے دفاعی نظام موجود ہیں جو اسے خطے میں ایک بڑی فوجی طاقت بناتے ہیں۔

آئرن ڈوم دفاعی نظام

یہ نظام راکٹ اور چھوٹے میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیتا ہے اور بیک وقت کئی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایرو میزائل دفاعی نظام

یہ نظام دور سے داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

جدید فضائیہ

اسرائیل کے پاس جدید اسٹیلتھ طیارے موجود ہیں جو ریڈار سے بچتے ہوئے دور تک حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ممکنہ ایٹمی صلاحیت

دنیا کے کئی ماہرین کے مطابق اسرائیل کے پاس ایٹمی ہتھیار بھی ہو سکتے ہیں، اگرچہ اسرائیل اس بارے میں سرکاری طور پر واضح تصدیق یا تردید نہیں کرتا۔

اسی وجہ سے عالمی طاقتیں ہمیشہ کوشش کرتی ہیں کہ جنگ اس حد تک نہ بڑھے جہاں ایٹمی خطرہ پیدا ہو جائے۔

ایران کی عسکری طاقت

ایران بھی خطے میں ایک اہم فوجی طاقت ہے اور اس کے پاس ایسے ہتھیار موجود ہیں جو اسرائیل کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں۔

طویل فاصلے کے بیلسٹک میزائل

ایران کے کئی میزائل 1500 سے 2000 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اسرائیل تک پہنچ سکتے ہیں۔

ڈرون ٹیکنالوجی

ایران کے ڈرون کم قیمت مگر مؤثر ہتھیار سمجھے جاتے ہیں جو بڑی تعداد میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت

آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم تیل گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ اگر ایران اسے بند کر دے تو دنیا کے تقریباً بیس فیصد تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے جس سے عالمی معیشت ہل سکتی ہے۔

علاقائی اتحادی

ایران کے ساتھ خطے میں کئی گروہ بھی وابستہ سمجھے جاتے ہیں جیسے:

– حزب اللہ (لبنان)

– حوثی (یمن)

– عراق کے بعض مسلح گروہ

یہ گروہ مختلف محاذ کھول کر جنگ کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

پہلے دس دن کا ممکنہ نتیجہ

ماہرین کے مطابق اگر جنگ مکمل طور پر چھڑ جائے تو ابتدائی دس دن انتہائی فیصلہ کن ہوں گے۔

اسرائیل کی برتری:

جدید فضائیہ، جدید دفاعی نظام اور ٹیکنالوجی کے باعث ابتدائی فضائی جنگ میں اسرائیل کو برتری مل سکتی ہے۔

ایران کی طاقت:

بڑی زمینی فوج، طویل فاصلے کے میزائل اور علاقائی اتحادی ایران کو طویل جنگ میں مضبوط بنا سکتے ہیں۔

فیصلہ کن عنصر:

بالآخر یہ جنگ عالمی طاقتوں کی مداخلت سے ہی رک سکتی ہے۔

سادہ الفاظ میں:

– ٹیکنالوجی میں برتری: اسرائیل

– افرادی قوت اور علاقائی اثر: ایران

– فیصلہ کن کردار: عالمی طاقتوں کی مداخلت

مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں ہونے والی ہر بڑی جنگ نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے۔ اسی لیے دنیا کے دانشور، سفارت کار اور امن کے حامی آج بھی یہی دعا کر رہے ہیں کہ کشیدگی جنگ میں تبدیل نہ ہو اور سفارت کاری کا راستہ غالب آئے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button