مضامین
نظم ” وقت کے ہلاکو ” — ظلم کے خلاف بیداری کی صدا
ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ
ویمنس یونیورسٹی
نظم
"وقت کے ہلاکو”
وہ
وقت کے ہلاکو ہیں —
چہرے بدلتے رہتے ہیں،
درندہ ایک ہی رہتا ہے۔
ریگِ ستم پر
پھر سے
خون کی ندیاں اتر آئی ہیں،
اور فضاؤں میں
بارود کی بُو
دعاؤں کا گلا گھونٹ رہی ہے۔
ہاں —
بھیڑیے کو
جب پہلی بار
لہو کا ذائقہ ملتا ہے
تو پیاس
عادت بن جاتی ہے۔
مصلحت کے محراب تلے
لب سیے
تماشائی قیادتیں
اپنے ہی سائے سے ڈرتی ہیں؛
ورنہ تاریخ گواہ ہے —
چوڑیاں پہننے والے ہاتھ بھی
شمشیریں تھام لیتے ہیں۔
مگر —
آسمان خاموش سہی،
اندھا نہیں۔
وقت
ریت پر فیصلے نہیں لکھتا —
وہ
قبروں پر رقم کرتا ہے۔
سن لو —
جب زمین کروٹ بدلتی ہے
تو محلات نہیں بچتے۔
جب تاریخ پلٹتی ہے
تو نام مٹ جاتے ہیں۔
اور جب خدا فیصلہ کرتا ہے —
تو
ہر ہلاکو
صرف ایک
کہانی رہ جاتا ہے۔


