نیشنل

آدھار کارڈ شہریت کا ثبوت نہیں: سپریم کورٹ

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے اس مسئلے پر گہری تشویش ظاہر کی ہے کہ غیر قانونی درانداز افراد آدھار کارڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ عدالتِ عظمیٰ نے سوال اٹھایا کہ ’’اگر غیر شہریوں کے پاس آدھار ہے تو کیا ہم انہیں ووٹ کا حق

 

 

بھی دے دیں؟‘‘ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع اصلاحات (SR — Special Revision) سے متعلق سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے یہ ریمارکس کئے ۔تمل ناڈو، کیرالا اور مغربی بنگال میں ایس آر عمل آوری کے خلاف دائر درخواستوں پر چیف

 

 

جسٹس سُوریہ کانت اور جسٹس جوئے ملیا باگچی کی بنچ نے جمعرات کو سماعت کی۔ اس دوران عدالت نے واضح کیا کہ آدھار کارڈ شہریت ثابت کرنے کا دستاویزی ثبوت نہیں ہے۔عدالت نے کہا’’آدھار کارڈ فقط سماجی بہبود کے فوائد کو

 

 

صحیح لوگوں تک پہنچانے کے لیے بنایا گیا تھا۔ کیا راشن کے لیے آدھار حاصل کرنے والے ہر شخص کو ووٹر بنا دینا چاہیے؟ اگر کوئی غیر ملکی یہاں مزدور کی حیثیت سے کام کر رہا ہے… تو کیا اسے بھی حقِ رائے دہی دیا جائے؟‘‘سپریم کورٹ

 

 

نے یہ بھی صاف کہا کہ ووٹر رجسٹریشن کے فارم-6 میں درج تفصیلات درست ہیں یا نہیں، اس کی جانچ کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے۔درخواست گزاروں کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے سینئر وکیل کپل سبل نے کہا کہ ایس آر کا عمل

 

 

عام شہریوں پر آئین کے منافی بوجھ ڈال رہا ہے، جن میں بڑی تعداد ناخواندہ افراد کی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ پورا عمل جمہوریت پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

 

 

سپریم کورٹ نے ان ریاستوں تمل ناڈو، کیرالا اور مغربی بنگال میں ایس آر کے نفاذ کو چیلنج کرنے والی خصوصی درخواستوں کو سماعت کے لیے شیڈول کر لیا ہے اور الیکشن کمیشن سے کہا ہے

 

 

کہ وہ یکم دسمبر تک اپنا مؤقف پیش کرے۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button