جی ایس ٹی عہدیدار پر سنگین الزام : آگرہ میں ٹرانسپورٹر اصغر علی کی پراسرار موت – گھر والوں نے قتل قرار دیا
اترپردیش کے شہر آگرہ میں ٹرانسپورٹ تاجر اصغر علی کی مشتبہ حالات میں موت واقع ہو گئی، جس کے بعد گھر والوں نے جی ایس ٹی محکمہ کے عہدیداروں پر قتل کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ نہیں بلکہ منصوبہ بند قتل ہے۔ پولیس نے نعش کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ پورا معاملہ شاہ گنج پولیس اسٹیشن کے علاقے سے سامنے آیا ہے، جہاں چند دن قبل اصغر علی نے اپنے ساتھی جوتا تاجر روی موہن کے ساتھ مل کر اسٹیٹ جی ایس ٹی محکمہ میں تعینات اسسٹنٹ کمشنر نِویدِت سنگھ کے خلاف شکایت درج کروائی تھی۔ الزام تھا کہ اسسٹنٹ کمشنر نے ان کی گاڑی ضبط کر کے چالان کے نام پر ساڑھے چار لاکھ روپے وصول کیے، لیکن رسید صرف تین لاکھ چھ ہزار روپے کی دی گئی۔ اس معاملہ کی شکایت لکھنؤ میں کئے جانے کے بعد جانچ شروع ہو گئی تھی۔
اطلاعات کے مطابق گزشتہ رات اصغر علی اپنی ٹرانسپورٹ گاڑی کے ساتھ جے پور جا رہے تھے کہ شاہ گنج علاقے میں ایک بار پھر جی ایس ٹی عہدیدار نے ان کی گاڑی روک لی۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس دوران انہیں گاڑی سے اتار کر گاڑی کو سیلز ٹیکس دفتر لے جایا گیا۔
آج صبح اصغر علی کی نعش سڑک کے بیچ پائی گئی، جس کی اطلاع ملتے ہی گھر میں کہرام مچ گیا۔ پولیس موقع پر پہنچ کر نعش کو اپنی تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لئے روانہ کر دیا۔
متوفی کے بیٹے نے الزام لگایا ہے کہ ان کے والد کی موت حادثہ نہیں بلکہ قتل ہے۔ ان کے مطابق جب سے اسسٹنٹ کمشنر نِویدِت سنگھ کے خلاف شکایت درج کروائی گئی تھی، تب سے انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی تھیں اور سمجھوتہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک باضابطہ تحریری شکایت موصول نہیں ہوئی ہے، شکایت ملنے کے بعد قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ فی الحال نعش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
متوفی اصغر علی کے فرزند کا بیان
متوفی اصغر علی کے ساتھی روی موہن کا بیان



