نیشنل

اے آئی جمہوریت کے لئے خطرہ؟ بی جے پی پر اقلیتوں کے خلاف ڈیجیٹل ہتھیار بنانے کا الزام

اے آئی کے سیاسی استعمال پر تشویش، اقلیتوں کے خلاف پروپیگنڈے کا الزام

 

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیزی سے ترقی جہاں دنیا بھر میں مختلف شعبوں کو بدل رہی ہے، وہیں بھارت میں اس کے سیاسی استعمال پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ مرکز میں برسرِ اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ اس جدید ٹیکنالوجی کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرتے ہوئے اپنے مخالفین اور اقلیتوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

 

دہلی میں منعقد ہونے والے انڈیا اے آئی سمٹ 2026 سے قبل ڈیجیٹل حقوق سے وابستہ چند تنظیموں نے ایک مشترکہ رپورٹ جاری کی ہے۔ اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنریٹو اے آئی ٹیکنالوجی کو اقلیتوں کے خلاف منفی مہم چلانے، غلط معلومات پھیلانے اور بڑے پیمانے پر نگرانی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس عمل سے جمہوری اقدار کمزور ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

 

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے مخصوص نظریے کو فروغ دیا جا رہا ہے، جبکہ اختلافی آوازوں کو دبانے کی کوششیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اے آئی کے استعمال کے لیے واضح قوانین اور نگرانی کا نظام قائم نہ کیا گیا تو اس کے سماجی اور سیاسی اثرات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔

 

دوسری جانب حکومت یا برسرِ اقتدار جماعت کی جانب سے ان الزامات پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم ماہرین زور دے رہے ہیں کہ اے آئی جیسی طاقتور ٹیکنالوجی کے استعمال میں شفافیت، جوابدہی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ ٹیکنالوجی ترقی کا ذریعہ بنے نہ کہ تقسیم اور تنازع کا سبب۔

متعلقہ خبریں

Back to top button