آسام اسمبلی انتخابات میں مولانا بدر الدین اجمل کی پارٹی کے حق میں بیرسٹر اویسی کی انتخابی مہم

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر و رکن پارلیمنٹ حیدرآباد بیرسٹر اسدالدین اویسی نے آسام کے چیف منسٹر ہیمنت بسوا سرما کی مبینہ بلڈوزر کارروائیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ اسمبلی انتخابات کے ذریعے انہیں ایک "واضح پیغام” دیا جانا چاہیے۔
گوہاٹی میں مولانا بدر الدین اجمل صدر آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے ساتھ ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر اویسی نے کہا کہ ریاست کی صورتحال انتہائی خراب ہے اور ایسے حالات میں ضروری ہے کہ آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے ذریعے مسلم قیادت کو مضبوط کیا جائے تاکہ جابرانہ قوتوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں صرف نعرے لگانے سے کام نہیں چلتا بلکہ ووٹ کے ذریعے ہمانتا بسوا سرما کو ان کی رجعت پسند سیاست پر واضح پیغام دینا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے اتحاد ضروری ہے اور عوام کو چاہیے کہ انتخاب کے دن ووٹ دے کر اپنا ردعمل ظاہر کریں۔بیرسٹر اویسی نے کہا کہ جمہوریت میں ووٹ ایک طاقتور ہتھیار ہے، اس لیے اپنی سیاسی شعور اور ضمیر کے مطابق اس کا استعمال کریں۔
بیرسٹر اویسی نے آئندہ انتخابات میں بی جے پی کی برتری کے دعوؤں کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات پر یقین نہیں رکھتے اور ان کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ AIUDF امیدوار اسمبلی پہنچیں تاکہ ریاست کے سیاسی نظام کو مضبوط بنایا جا سکے۔
واضح رہے کہ بیرسٹر اویسی چہارشنبہ کے روز آسام پہنچے، جہاں وہ آئندہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر AIUDF کی انتخابی مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔ گوہاٹی ایئرپورٹ پر پارٹی کارکنوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا اور روایتی آسام کی ’گاموسا‘ پیش کر کے ان کا خیرمقدم کیا۔
جلسے کے دوران بیرسٹر اویسی نے مسلم برادری سے اپیل کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ AIUDF امیدواروں کو کامیاب بنا کر اسمبلی بھیجیں اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ووٹنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ بدرالدین اجمل یا اسدالدین اویسی کا نہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ آپ کی آواز کون اٹھائے گا۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ AIUDF کی حمایت جاری رکھتے ہوئے اس کے امیدواروں کو ووٹ دیں تاکہ ناانصافیوں کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔




