خانگی جائیداد پر نماز کے معاملے میں بلڈوزر کی دھمکی: الہ آباد ہائی کورٹ کا بڑا حکم، حسن خان کو 24 گھنٹے مسلح پولیس تحفظ
اترپردیش کی الہ آباد ہائی کورٹ نے خانگی جائیداد میں نماز ادا کرنے کے معاملے سے متعلق ایک گھر کو بلڈوزر کارروائی کی دھمکی ملنے پر پولیس تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔جسٹس شری دھرن کی قیادت والی بنچ نے گھر کے مالک کو 24 گھنٹے مسلح پولیس تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت دی۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے بریلی ضلع سے تعلق رکھنے والے حسن خان نامی شخص کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے دو سکیورٹی گارڈس تعینات کرنے کا حکم دیا۔ حسن خان کا دعویٰ ہے کہ محمد گنج گاؤں میں ان کی خانگی جائیداد پر انہیں اور دیگر افراد کو نماز ادا کرنے سے روکا گیا تھا۔
عدالت نے حسن خان کے اس بیان کو بھی ریکارڈ کیا کہ پولیس نے انہیں بغیر مواد بتائے ایک کاغذ پر انگوٹھے کا نشان لگانے پر مجبور کیا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ کچھ افراد نے دھمکی دی کہ اگر وہ عدالت میں ان کی ہدایات کے مطابق بیان نہیں دیں گے تو ان کی جائیداد کو بلڈوزر سے منہدم کر دیا جائے گا۔
عدالت نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ حسن خان اور ان کے خاندان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ حکم میں کہا گیا کہ دو مسلح گارڈس چوبیس گھنٹے حسن خان کی حفاظت کریں گے اور وہ جہاں بھی جائیں گے ان کے ساتھ رہیں گے، جب تک عدالت کوئی اور حکم جاری نہ کرے۔
بنچ نے یہ بھی کہا کہ اگر حسن خان یا ان کی جائیداد کے ساتھ کوئی تشدد کا واقعہ پیش آتا ہے تو بظاہر اسے ریاست کی ایما پر پیش آیا سمجھا جائے گا، عدالت نے ضلع مجسٹریٹ بریلی اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، بریلی کو آئندہ سماعت پر شخصی طور پر حاضر رہنے کی بھی ہدایت دی ہے۔اس معاملے کی آئندہ سماعت اور حتمی احکامات کے لئے 23 مارچ کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔



