وقف ترمیمی قانون کے خلاف بیرسٹر اسدالدین اویسی کی درخواست پر 4 نومبر کو سماعت، وقف جائیدادوں کی حیثیت تبدیل ہونے کا خدشہ

وقف ترمیمی قانون کے خلاف بیرسٹر اسدالدین اویسی کی درخواست پر 4 نومبر کو سماعت، وقف جائیدادوں کی حیثیت تبدیل ہونے کا خدشہ
نئی دہلی، 15 اکتوبر (اردو لیکس) سپریم کورٹ نے وقف ترمیمی قانون 2025 کو چیلنج کرتے ہوئے صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین و رکن پارلیمنٹ حیدرآباد بیرسٹر اسدالدین اویسی کی جانب سے دائر کردہ درخواست سمیت دیگر درخواستوں پر 4 نومبر کو سماعت مقرر کی ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوی مالیا باگچی پر مشتمل بنچ نے جمعرات کو معاملے کی سماعت کے دوران درخواست گزاروں کی جانب سے پیش کردہ دلائل کی سماعت کی۔
اسدالدین اویسی کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ نظام الدین پاشا نے عدالت سے اپیل کی کہ معاملے کی جلد سماعت کی جائے، کیونکہ قانون پر عمل درآمد جاری رہنے سے وقف جائیدادوں کی حیثیت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانونِ تحدید (لمیٹیشن ایکٹ) کے اطلاق اور وقف بالاستعمال (وقف بائی یوزر) کو تسلیم نہ کئے جانے کے باعث وقف جائیدادوں کے حقوق متاثر ہوسکتے ہیں۔ بعض جائیدادوں کی حیثیت میں ہونے والی تبدیلیاں مستقل اور ناقابل واپسی بھی ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ تقریباً ڈیڑھ سال قبل عبوری حکم جاری ہونے کے باوجود درخواستوں پر سماعت نہ ہونے سے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ ستمبر 2025 میں سپریم کورٹ نے وقف ترمیمی قانون کی بعض دفعات پر عبوری روک لگائی تھی، جبکہ دیگر اہم دفعات پر عمل درآمد جاری رکھنے کی اجازت دی تھی۔ عدالت نے شنبیر سنگھ کی جانب سے دائر مداخلت کی درخواست کو بھی منظور کرتے ہوئے اسے وقف ترمیمی قانون کو چیلنج کرنے والی دیگر درخواستوں کے ساتھ منسلک کردیا۔


