نیشنل

گلوکاری کی ملکہ آشا بھوسلے کی طبیعت نازک، دل کا دورہ پڑنے پر ہاسپٹل منتقل

گلو کارہ آشا بھوسکے کے قلب پر حملہ

ممبئی: ہندی سنیما اور موسیقی کی دنیا کی معروف گلوکارہ آشا بھوسلے کے قلب پر حملہ ہوا۔ اس کے بعد انہیں علاج کے لیے ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال میں شریک کروایا گیا۔ معلومات کے مطابق 92 سالہ اسٹار گلوکارہ کو فی الحال ہاسپٹل کے آئی سی یو میں رکھا گیا ہے جہاں ڈاکٹروں کی ٹیم ان کی صحت کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کر رہی ہے۔

 

آشا بھوسلے کی صحت کے حوالے سے ان کے خاندان کے افراد یا بریچ کینڈی اسپتال کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ واضح رہے کہ 92 سالہ گلوکارہ آشا بھوسلے کی پیدائش 8 ستمبر 1933 کو ہوئی تھی۔ انہوں نے کم عمری میں ہی گلوکاری شروع کر دی تھی۔آشا بھوسلے کے بارے میں بتا دیں کہ وہ دنیا کی سب سے زیادہ ریکارڈ کی جانے والی گلوکاراؤں میں سے ایک ہیں

 

۔ اپنے طویل کیریئر میں انہوں نے ہندی، مراٹھی، بنگالی اور گجراتی سمیت کئی زبانوں میں ہزاروں گیت گائے ہیں۔ کلاسیکی موسیقی اور غزلوں سے لے کر پاپ، کیبری اور لوک موسیقی تک مختلف اصناف میں انہوں نے اپنی فنکاری کا مظاہرہ کیا ہے

 

۔آشا بھوسلے موسیقار آر ڈی برمن کے ساتھ اپنی یادگار شراکت کے لیے خاص طور پر جانی جاتی ہیں جنہوں نے بھارتی سنیما کو کئی لازوال گانے دیے۔ اسی وجہ سے انہیں بالی ووڈ کی بہترین پلے بیک گلوکاراؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔

 

یہ بات قابل ذکر ہے کہ آشا بھوسلے کو بھارتی موسیقی میں ان کی بے مثال خدمات کے لیے دادا صاحب پھالکے ایوارڈ اور پدم وبھوشن سمیت کئی معزز اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ ان کا اثر کئی نسلوں کے گلوکاروں کو متاثر کرتا رہا ہے اور ملک کی موسیقی کی وراثت میں ان کی چھاپ آج بھی گہری ہے۔ نئی نسل آج بھی ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی ترغیب حاصل کرتی ہے

 

۔آشا بھوسلے کا ہندی سنیما میں بڑا کردار رہا ہے انہوں نے کئی لازوال گانوں کو اپنی آواز دی ہے۔ ان کے مشہور گانوں میں ‘پیا تو اب تو آجا’، ‘دم مارو دم’ اور ‘یہ ہے ریشمی زلفوں کا اندھیرا’ شامل ہیں۔ یہ گانے جرات مندانہ اور دلکش نوعیت کے تھے اور ان کی وجہ سے کچھ تنازعات بھی پیدا ہوئے۔ حال ہی میں گلوکارہ نے یاد کیا کہ کس طرح ان کے کچھ گانوں پر ریڈیو پر پابندی بھی لگا دی گئی تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button