آسام اسمبلی میں ایک سے زائد شادیوں پر پابندی کا قانون منظور — قانون اسلام کے خلاف نہیں ہے ؛ چیف منسٹر ہیمنت بسوا کا دعویٰ
آسام اسمبلی نے جمعرات کو ’آسام پروہیبیشن آف پولیگیمی بل 2025‘ منظور کر لیا، جس کا مقصد ریاست میں کثرتِ ازدواج اور ایک سے زائد شادیوں پر پابندی عائد کرنا اور اسے ختم کرنا ہے۔
بل اب صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو کی منظوری کے لیے بھیجا جائے گا۔ بل کی منظوری سے قبل آسام کے چیف منسٹر ہیمنت بسوا سرما نے ایوان میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کا اسلام سے کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ انھوں کہ اسلام کثرت ازدواج کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا، اور اگر یہ بل پاس ہوتا ہےتو ’آپ کو ایک سچے مسلمان ہونے کا موقع ملے گا‘۔
سرما نے کہا کہ یہ قانون اسلام کے خلاف نہیں ہے اور ’سچے اسلامی لوگ اس ایکٹ کا خیرمقدم کریں گے‘۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ترکی جیسے مسلم ممالک نے تعددِ ازدواج پر پابندی لگا رکھی ہے، جبکہ پاکستان میں بھی اس حوالے سے ثالثی کونسل کام کر رہی ہے
بل کے مطابق، ایک سے زائد شادی کرنے والے شخص کو سات سال قید اور جرمانے کی سزا دی جائے گی۔تاہم، اگر کوئی شخص اپنی پہلی شادی چھپا کر دوسری شادی کرے گا تو اسے دس سال قید اور جرمانے کی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔
چیف منسٹر ہیمنت بسوا سرما نے اسمبلی میں یہ عزم بھی دہرایا کہ وہ آسام میں یونیفارم سول کوڈ نافذ کریں گے۔انھوں کہ اگر وہ دوبارہ چیف منسٹر کی حیثیت سے ایوان میں واپس آئے تو اسمبلی کے پہلے ہی اجلاس میں یونیفارم سول کوڈ نافذ کرنا ان کی ترجیح ہوگی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وہ آسام میں یونیفارم سول کوڈ ضرور لائیں گے۔



