نیشنل

بیرسٹر اویسی کی پولیس سے شکایت پر چیف منسٹر آسام چراغ پا

نئی دہلی: آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے کہا ہے کہ انہیں اس بات کی کوئی جانکاری نہیں ہے کہ بی جے پی کی آسام یونٹ کے ایکس ہینڈل سے کوئی متنازعہ ویڈیو شیئر کی گئی ہو۔ اس اے آئی ویڈیو کو لے کر کافی تنازع کھڑا ہوا تھا جس کے بعد اسے ہٹا دیا گیا۔اس اے آئی ویڈیو میں ہیمنتا بسوا سرما کو ٹوپی پہنے ہوئے دو افراد پر رائفل تانتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

 

 

ویڈیو کے آخر میں انہیں کاؤبوائے کی طرح کپڑے پہنے اور بندوق لہراتے ہوئے دکھایا گیا۔وزیر اعلیٰ سرما نے پیر کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مجلس صدر اسدالدین اویسی کی جانب سے حیدرآباد میں اس ویڈیو کے سلسلے میں پولیس کے سامنے درج کروائی گئی کسی شکایت کی بھی اطلاع نہیں ہے۔ صدر مجلس نے پیر کے روز اس ویڈیو کے معاملے میں حیدرآباد پولیس میں شکایت درج کورائی اور آسام کے وزیر اعلیٰ کے خلاف فوجداری کارروائی کا مطالبہ کیا۔

 

 

اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سرما نے کہا“اگر میرے خلاف کوئی مقدمہ درج کیا گیا ہے تو مجھے گرفتار کر لیجیے۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ میں جیل جانے کے لیے تیار ہوں۔ میں ہمیشہ اپنے الفاظ پر قائم رہوں گا۔ میں بنگلہ دیشی دراندازوں کا مخالف ہوں اور ہمیشہ رہوں گا۔”اس سے پہلے سرما نے کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ گورو گوگوئی سے پاکستان کے راولپنڈی ضلع کے دورے پر وضاحت دینے کو کہا تھا۔

 

 

سرما نے کہا کہ ان کے ویزا میں واضح طور پر صرف لاہور، کراچی اور اسلام آباد کے سفر کی اجازت درج تھی۔ان الزامات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے لوک سبھا میں کانگریس کے نائب رہنما گورو گوگوئی نے کہا کہ انہوں نے اجازت لے کر ہی اپنی اہلیہ کے ساتھ پاکستان کے ٹیکسلا کا دورہ کیا تھا۔ گوگوئی نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کی بیوی 2013 میں کام کے سلسلے میں پاکستان گئی تھیں

 

 

اور وہ اسی سال دسمبر میں ہمسایہ ملک کے دس روزہ دورے پر ان کے ساتھ گئے تھے۔ہیمنتا بسوا سرما اور گورو گوگوئی کے درمیان لفظی جنگ جاری ہے جس میں سرما نے الزام لگایا ہے کہ کانگریس رہنما اور ان کے خاندان کے پاکستان سے روابط ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button