ایودھیا رام مندر میں نماز کی مبینہ کوشش، کشمیر سے تعلق رکھنے والا شخص حراست میں

Photo courtesy to India today
لکھنؤ _ ایودھیا میں واقع رام مندر کے احاطہ میں نماز ادا کرنے کی مبینہ کوشش کے بعد کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ حکام کے مطابق سیکیورٹی عملے نے جب اسے روکا تو اس نے مبینہ طور پر نعرے بازی کی، جس کے بعد سیکیورٹی میں ممکنہ چوک کی تشویش پیدا ہوگئی۔
انڈیا ٹو ڈے کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ شخص کی شناخت احمد شیخ کے طور پر ہوئی ہے، جو کشمیر کے شوپیاں ضلع کا رہنے والا بتایا جا رہا ہے۔ حکام نے کہا کہ 55 سالہ شخص جمعہ کے روز سخت سیکیورٹی والے رام مندر میں داخل ہوا، درشن کے بعد سیتا رسوئی کے قریب بیٹھ گیا اور مبینہ طور پر نماز ادا کرنے کی تیاری کر رہا تھا۔ اسی دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے اس کی سرگرمیوں کو نوٹ کیا اور فوری مداخلت کی۔ مندر کے سیکیورٹی اسٹاف نے اسے حراست میں لے کر مقامی پولیس کے حوالے کر دیا۔
کچھ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ روکے جانے پر اس نے نعرے لگائے، تاہم اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔ پولیس کے مطابق تفتیشی اور انٹیلیجنس ایجنسیاں اس شخص کے ارادوں کی جانچ کر رہی ہیں اور یہ بھی معلوم کیا جا رہا ہے کہ وہ سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود حساس علاقوں تک کیسے پہنچا۔ اس کے سفر کی تفصیلات، ایودھیا آنے کی وجہ اور کسی ممکنہ ساتھی کے ملوث ہونے کے پہلوؤں کی بھی چھان بین کی جا رہی ہے۔
ابتدائی جانچ کے دوران اس کے پاس سے کاجو اور کشمش جیسی اشیاء برآمد ہونے کی اطلاع ہے۔ ذرائع کے مطابق اس نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ وہ اجمیر جا رہا تھا۔
واقعے کے بعد رام مندر کے سیکیورٹی انتظامات کا سینئر پولیس افسران اور انٹیلیجنس ایجنسیاں جائزہ لے رہی ہیں۔ ضلع انتظامیہ اور رام مندر ٹرسٹ نے تاحال اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایودھیا میں آئندہ ہفتے مکر سنکرانتی کی تقریبات کی تیاریوں میں تیزی ہے، جن میں بڑی تعداد میں عقیدت مندوں کی آمد متوقع ہے، جس کے پیش نظر شہر میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔



