بلّاری فائرنگ معاملہ: کرناٹک میں معطل ایس پی کی خودکشی کی کوشش، معاملہ مزید سنگین

بلّاری فائرنگ معاملہ: کرناٹک میں معطل ایس پی کی خودکشی کی کوشش، معاملہ مزید سنگین
ریاست کرناٹک کے ضلع بلّاری میں پیش آئے فائرنگ کے واقعہ نے اچانک نیا اور تشویشناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ اس واقعہ کی ذمہ داری طے کرتے ہوئے کرناٹک حکومت نے بلّاری کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس پاون نِجّور کو معطل کر دیا تھا۔ تازہ اطلاعات کے مطابق معطل شدہ ایس پی پاون نِجّور نے خودکشی کی کوشش کی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاون نِجّور نے ضلع تُمکورو میں واقع ایک فارم ہاؤس میں نیند کی گولیاں کھا لیں، جس کے بعد انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر کے علاج شروع کیا گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے اور ان پر کڑی نگرانی رکھی گئی ہے۔
واضح رہے کہ بلّاری میں فائرنگ کا یہ واقعہ فلیکس اور بینرز لگانے کے معاملے پر پیش آئے تنازع کے بعد ہوا۔ جمعرات کی رات گنگاوتی کے ایم ایل اے و سابق وزیر گالی جناردھن ریڈی اور بلّاری کانگریس کے ایم ایل اے نارا بھرت ریڈی کے حامیوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، جو دیکھتے ہی دیکھتے شدید جھگڑے اور پھر فائرنگ میں تبدیل ہو گئی۔ اس واقعہ میں ایک شخص ہلاک جبکہ دوسرا شدید زخمی ہو گیا۔ اس اچانک پیش آئے واقعہ سے اب تک پرامن رہنے والا بلّاری شہر کچھ دیر کے لئے میدانِ جنگ کا منظر پیش کرنے لگا۔
حکومت نے بروقت اور سخت کارروائی نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ایس پی پاون نِجّور کے خلاف تادیبی کارروائی کی۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ پاون نِجّور نے اسی دن بلّاری کے ایس پی کے طور پر چارج سنبھالا تھا اور چند ہی گھنٹوں بعد فائرنگ کا یہ واقعہ پیش آیا، جس کے فوراً بعد انہیں معطل کر دیا گیا۔ ان تیزی سے بدلتے واقعات نے پورے معاملے کو انتہائی ڈرامائی بنا دیا ہے۔
دوسری جانب، اس معاملے میں حکومت کی جانب سے ایس پی کے خلاف کی گئی فوری کارروائی پر بھی مختلف حلقوں سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور حکومت کے طرزِ عمل پر تنقید کی جا رہی ہے۔



