بیرسٹر اسد الدین اویسی کی چیف منسٹر آسام کے خلاف کمشنر پولیس حیدرآباد سے شکایت۔ مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ

نئی دہلی: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور رکنِ پارلیمنٹ بیرسٹر اسدالدین اویسی نے آسام کے چیف منسٹر ہیمنتا بسوا سرما کے خلاف مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے، دو مذہبی برادریوں کے درمیان نفرت کو ہوا دینے اور قومی یکجہتی کے منافی بیانات دینے پر حیدرآباد کمشنر پولیس سے تحریری طورپر شکایت کرتے ہوئے قانونی کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اپنی شکایت میں بیرسٹر اسدالدین اویسی نے کہا کہ ہیمنتا بسوا سرما گزشتہ کئی برسوں سے سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا، عوامی تقاریر اور دیگر پلیٹ فارمس کے ذریعے مسلم برادری کے خلاف مسلسل قابلِ اعتراض بیانات دیتے آ رہے ہیں۔ صدر مجلس نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں وزیر اعلیٰ آسام نے دانستہ طور پر نفرت انگیز تقاریر میں اضافہ کیا ہے جس کا مقصد مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا اور ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان دشمنی اور نفرت کو فروغ دینا ہے
جبکہ انہیں اس بات کا بخوبی علم ہے کہ اس طرح کے بیانات قومی یکجہتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ہیں۔ بیرسٹر اسدالدین اویسی نے سپریم کورٹ کے فیصلے شاہین عبداللہ بنام یونین آف انڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالتِ عظمیٰ نے واضح طور پر قرار دیا ہے کہ ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ بنیادی حقوق کا تحفظ کریں، آئینی اقدار کو برقرار رکھیں اور ملک کے سیکولر اور جمہوری تشخص خصوصاً قانون کی حکمرانی کی حفاظت کریں۔
عدالت نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ نفرت انگیز تقاریر کے معاملات میں پولیس کو شکایت کے بغیر بھی از خود کارروائی کرنی چاہیے اور کسی قسم کی تاخیر یا لاپروائی سنگین کوتاہی تصور کی جائے گی۔شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ 7 فروری 2026 کو آسام بھارتیہ جنتا پارٹی کے سرکاری ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ سے ایک ویڈیو پوسٹ کی گئی تھی جسے ایک دن بعد ہٹا دیا گیا تاہم وہ اب بھی سوشل میڈیا پر دستیاب ہے۔ اس ویڈیو میں ہیمنتا بسوا سرما کو آتشیں اسلحہ کے ساتھ دکھایا گیا ہے
اور انہیں واضح طور پر مسلمانوں کے طور پر پیش کیے گئے افراد کو نشانہ بناتے ہوئے فائر کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ویڈیو میں استعمال کی گئی تصویری جھلکیاں اور الفاظ جیسے ’’پوائنٹ بلینک شاٹ‘‘ اور ’’نو مرسی‘‘ کو مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے، مذہبی برادریوں کے درمیان نفرت اور بداعتمادی پھیلانے اور فرقہ وارانہ تشدد کو بھڑکانے کی دانستہ اور بدنیتی پر مبنی کوشش قرار دیا گیا ہے۔
صدر مجلس نے مطالبہ کیا کہ مذکورہ حقائق اور حالات کے پیشِ نظر ہمنتا بسوا سرما کے خلاف قانون کے مطابق فوری اور ضروری قانونی کارروائی کی جائے۔



