بنگال کی سیاست میں بھونچال: ویڈیو تنازعہ کے بعد مجلس نے ہمایوں کبیر سے اتحاد توڑ دیا – آزاد مقابلہ کرنے کا اعلان

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے عین قبل کل ہند مجلس اتحاد المسلمین نے ہمایوں کبیر کی پارٹی سے اپنا اتحاد ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس سے ریاست کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔
مجلس پارٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہمایوں کبیر سے منسوب انکشافات کے بعد کسی ایسے موقف یا بیان سے خود کو وابستہ نہیں رکھ سکتی جس میں مسلمانوں کی سالمیت پر سوال اٹھایا جائے۔ اسی بنیاد پر فوری طور پر اتحاد ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ترنمول کانگریس نے ہمایوں کبیر کی ایک مبینہ ویڈیو جاری کی، جس میں ان پر بی جے پی لیڈروں سے قربت اور دیگر متنازعہ بیانات دینے کے الزامات عائد کئے گئے۔ تاہم کبیر نے اس ویڈیو کو مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کیا اور اسے اپنے خلاف سازش بتایا۔
واضح رہے کہ ہمایوں کبیر کو گزشتہ برس ٹی ایم سی سے نکالے جانے کے بعد انہوں نے اپنی جماعت “عام جنتا اُنّیَن پارٹی” قائم کی تھی، جس کے ساتھ مجلس نے انتخابی اتحاد کیا تھا۔
مجلس نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ مغربی بنگال میں دہائیوں کی سیکولر حکومت کے باوجود مسلمان سماجی و معاشی طور پر پسماندہ ہیں، اور پارٹی کا مقصد انہیں ایک آزاد سیاسی آواز فراہم کرنا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق ریاست میں ووٹنگ دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو ہوگی، جبکہ نتائج 4 مئی کو جاری کیے جائیں گے

کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر یہ بیان جاری کیا گیا ہے
ہمایوں کبیر کے انکشافات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ بنگال کے مسلمان کس قدر کمزور اور غیر محفوظ ہیں۔ مجلس اتحاد المسلمین ایسے کسی بیان یا مؤقف سے خود کو وابستہ نہیں کر سکتی جس میں مسلمانوں کی سالمیت پر سوال اٹھایا جائے۔ اسی لیے آج سے مجلس نے ہمایوں کبیر کی جماعت کے ساتھ اپنا اتحاد ختم کر دیا ہے۔بنگال کے مسلمان ملک کی سب سے زیادہ غریب، نظرانداز اور مظلوم برادریوں میں شامل ہیں۔ دہائیوں تک سیکولر حکومتوں کے باوجود ان کے لیے کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا گیا۔مجلس اتحاد المسلمین کی پالیسی یہ ہے کہ وہ کسی بھی ریاست میں انتخابات اس لیے لڑتی ہے تاکہ پسماندہ طبقات کو ایک آزاد سیاسی آواز مل سکے۔ ہم مغربی بنگال کے انتخابات آزادانہ طور پر لڑیں گے اور آئندہ کسی بھی جماعت کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں کریں گے۔



