لاتور میں بی جے پی کی ہار، کانگریس نے بی جے پی کا قلعہ ہلا دیا

ممبئی: ریاست مہاراشٹرا کے مقامی بلدیاتی انتخابات میں بی جے پی نے کئی مقامات پر برتری حاصل کی لیکن لاتور میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
یہاں میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں کانگریس نے کامیابی حاصل کی۔ جملہ 70 نشستوں میں سے کانگریس نے 43 نشستیں جیتیں جبکہ بی جے پی صرف 22 نشستوں تک محدود رہ گئی۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران بی جے پی کے ریاستی صدر کی جانب سے
اسی علاقے سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر اعلیٰ ولا س راؤ دیش مکھ کے خلاف دیے گئے متنازعہ بیان نے پارٹی کے جیتنے کے امکانات کو نقصان پہنچایا۔انتخابات سے قبل لاتور میں پارٹی کارکنوں کے ساتھ ایک اجلاس کے دوران بی جے پی کے ریاستی صدر رویندر چوان نے ولاس راؤ دیش مکھ پر شدید تنقید کی۔
انہوں نے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ ان کے آبائی علاقے میں سے ان کی یادوں کو مٹا دیں۔ اس بیان کے بعد تنازع کھڑا ہو گیا۔کانگریس نے الزام لگایا کہ بی جے پی ریاست کی ترقی کے لیے اپنی زندگی وقف کرنے والے ایک عظیم رہنما کو کمتر ثابت کرنے کیکوشش کر رہی ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ کے بیٹے اور بالی ووڈ اداکار رتیش دیش مکھ نے بھی اس پر ردعمل دیا اور ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ عوام کے دلوں سے ان کے والد کی یادوں کو مٹایا نہیں جا سکتا۔تاہم رویندر چوان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ولاس راؤ پر تنقید نہیں کی اور الزام لگایا کہ کانگریس ان کا نام استعمال کر کے لاتور میں ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہے۔
انہوں نے رتیش دیش مکھ سے معذرت بھی کی۔ سال 2017 میں ہوئے آخری لاتور میونسپل انتخابات میں بی جے پی نے 36 نشستوں کے ساتھ کامیابی حاصل کی تھی لیکن اس بار کانگریس نے 43 نشستیں جیت کر اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔
بی جے پی کو 22 ونچت بہوجن اگھاڑی کو 4 اور این سی پی کو 1 نشست ملی۔



