مسلمانوں پر گولیاں چلانے کے ویڈیو پر بی جے پی کی وضاحت۔ چیف منسٹر آسام کا اظہار لا علمی

مسلمانوں پر گولیاں چلانے کے ویڈیو پر بی جے پی کی وضاحت۔ سوشل میڈیا کنوینر کو بتایا ذمہ دار
نئی دہلی:آسام بی جے پی کے سوشل میڈیا شعبے کے چار شریک کنوینرس میں سے ایک کو اُن کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے بی جے پی کے سرکاری ایکس ینڈل سے پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما کو ٹوپی پہنے دو افراد پر رائفل تانے ہوئے دکھایا گیا تھا۔
ان میں سے ایک کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ گورو گوگوئی سے مشابہ دکھائی دیتا تھا۔ اس ویڈیو کی شدید تنقید ہوئی تھی اور اسے اگلے دن ہٹا دیا گیا تھا۔ اس دوران آسام بی جے پی کے صدر دلیپ سیکیا نے شریک کنوینر کی جانب سے کی گئی پوسٹ کو ناپختہ اور غیر مجاز کارروائی قرار دیا۔
اگست 2025 میں سیکیا نے چار پارٹی کارکنوں کو سوشل میڈیا شعبے کا شریک کنوینر مقرر کیا تھا یہ سب 20 سے 30 سال کی عمر کے مرد تھے۔ ان میں سے ایک کو اب ہٹا دیا گیا ہے۔ ریاستی سطح پر سوشل میڈیا ٹیم میں 20 ارکان شامل ہیں جن میں ایک کنوینر، دو شریک کنوینر اور ہر ضلع میں پانچ ارکان شامل ہیں۔
کنوینر 33 سالہ پارٹی کارکن بسوجیت کھاؤنڈ ہیں۔گزشتہ ہفتے سنیچر کو “پوائنٹ بلینک شاٹ” کیپشن کے ساتھ اپ لوڈ کی گئی اس ویڈیو میں سرما کو دو افراد کی تصاویر پر گولی چلاتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور ویڈیو کے آخر میں انہیں کاؤ بوائے کے لباس میں بندوق لہراتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
سیکیا نے دعویٰ کیا، “پارٹی آسام میں غیر قانونی طور پر رہ رہے بنگلہ دیشیوں کے بارے میں فکر مند ہے اور اس کے لیے سماج میں تحریک ضروری ہے لیکن پارٹی مسلمانوں کو نشانہ بنا کر گولیاں چلانے کے بدنیتی پر مبنی ارادے کی حمایت نہیں کرتی۔ یہ ایک ناتجربہ کار اور غیر مجاز شخص کی طرف سے غلط انداز میں پیش کیا گیا معاملہ تھا۔
پارٹی نے اس کا نوٹس لیا اور ہم نے ویڈیو ڈیلیٹ کروا دی۔”کھاؤنڈ نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر مواد پارٹی کارکنوں کی ایک رضاکار ٹیم تیار کرتی اور پوسٹ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا، “اس میں کوئی خانگی ایجنسی شامل نہیں ہے، ہمارا گرافک ڈیزائنر بھی ایک کارکن ہے۔ سب کچھ پارٹی شعبے کے تحت چلتا ہے۔”
ایک سینئر رہنما، رنجیب شرماسوشل میڈیا کی ذمہ داری سنبھالتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے سے متعلق خیالات اور فیصلوں کے بارے میں انہوں نے کہا، “یہ کوئی طے شدہ ذمہ داری نہیں ہے۔ یہ موضوع اور اس موضوع کی معلومات رکھنے والے شخص پر منحصر کرتا ہے۔ اگر مجھے کوئی خیال آتا ہے تو میں کنوینر کو بتا دیتا ہوں وہ اس پر تحقیق کرتے ہیں اور مواد تیار کرتے ہیں۔”
سیکیا نے کہا کہ شریک کنوینرز کو پارٹی پروگراموں اور مبارکباد جیسے معمول کے معاملات پر خود پوسٹ اپ لوڈ کرنے کا اختیار ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں انچارج رنجیب شرما یا سی ایم او کی اجازت کے بغیر، وزیر اعلیٰ کی تصویر کو غلط تناظر میں استعمال کرتے ہوئے حساس مواد پوسٹ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اس پوسٹ کی متعلقہ حکام کی جانب سے جانچ نہیں کی گئی تھی۔”
اسی دوران وزیر اعلیٰ نے بھی ویڈیو کے بارے میں لاعلمی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا “ہم نے (کانگریس کے اراکین اسمبلی کی شکایت کی بنیاد پر) ایف آئی آر درج کروائی ہے۔ دراصل ہمارے بی جے پی کے ایک رکن نے بھی مقدمہ درج کروایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ ایسی ویڈیو ہے جس سے ہم ناراض ہیں کیونکہ آسام میں ہر کوئی جانتا ہے کہ ہم آسامی مسلمانوں کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم بنگلہ دیشی مسلمانوں کے خلاف ہیں جنہیں ہم میاں مسلمان کہتے ہیں۔
اس تصویر سے بنگلہ دیشی مسلمانوں اور بھارتی مسلمانوں کے درمیان فرق واضح ہونا چاہیے تھا۔ بی جے پی ایک پارٹی کے طور پر اور میں ایک انسان کے طور پر آسامی مسلم برادری کے خلاف کسی بھی بات کی حمایت نہیں کرتا۔



