مسلمان بزرگ کی مدد کیلئے کھڑے ہونے والے ‘محمد’ دیپک کو چکانی پڑرہی ہے قیمت

نئی دہلی: ‘محمد’ دیپک کی ہلک جم کی ممبرشپ 150 سے گھٹ کر صرف 15 رہ گئی تھی۔ اس کے بعد اب قانونی برادری نے جم کو بچانے کے لیے قدم اٹھایا ہے۔ سپریم کورٹ کے 15 سینئر وکلاء سمیت کئی قانونی ماہرین نے دیپک کمار کی روزی برقرار رکھنے کے لیے مدد فراہم کی ہے۔
ریاست اترکھنڈ کے رہنے والے دیپک نے 26 جنوری کو بجرنگ دل کے ایک گروپ کی مخالفت کی تھی جو پارکنسنز بیماری میں مبتلا 70 سالہ مسلم دکاندار کو ہراساں کر رہے تھے اور ان سے دکان کے نام سے “بابا” لفظ ہٹانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
جھڑپ کے دوران جب دیپک سے ان کا نام پوچھا گیا تو انہوں نے ہجوم سے کہا کہ ان کا نام محمد دیپک ہے۔ اس واقعے کی ویڈیو وائرل ہوگئی اور دیپک خبروں میں آ گئے۔ 31 جنوری کو بجرنگ دل کے کچھ ارکان دیپک کا سامنا کرنے کے لیے جمع ہوئے لیکن پولیس نے انہیں روک دیا۔
ایک ہفتے بعد شہر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ ایک طرف وہ لوگ تھے جو دیپک کی حمایت کر رہے تھے اور دوسری طرف وہ لوگ جو ان کے اقدام سے ناراض تھے۔ دیپک کے مطابق“شہر کے آدھے لوگ میرا ساتھ دے رہے ہیں، لیکن اچھا کام کرنے پر لوگ تالیاں نہیں بجاتے۔ ایمانداری کی قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔” وہ ایک جم چلایا کرتے ہیں
جہاں پہلے 150 لوگ آیا کرتے تھے لیکن بجرنگ دل کے کارکنوں کی مخالفت اور مسلم بزرگ کے ساتھ کھڑے ہونے پر ان کے کاروبار پر اس کا اثر پڑا ہے ان کے جم میں صرف 15 لوگ آتے ہیں جبکہ 135 نے جم آنا چھوڑ دیا۔ جم کی ممبرشپ میں کمی کے باعث دیپک کو جم کا 40 ہزار روپے ماہانہ کرایہ اور گھر بنانے کے لیے لیا گیا
قرض ادا کرنے میں مشکلات پیش آ رہی تھیں۔ رپورٹ شائع ہونے کے بعد سینئر وکلاء نے ایک سال کی ممبرشپ کی صورت میں فی کس 10 ہزار روپے تعاون کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ قدم سی پی آئی (ایم) کے رکن پارلیمنٹ جان برِیٹاس کے اقدام سے متاثر ہو کر اٹھایا گیا
جنہوں نے جم کا دورہ کر کے ممبرشپ لی تھی۔اس مہم کی قیادت کرنے والے ایک وکیل نے بتایا کہ جب انہوں نے دیپک سے بات کی تو دیپک نے براہِ راست رقم لینے سے انکار کیا۔ اس پر وکیل نے ممبرشپ کے ذریعے مدد کی تجویز دی اور جم کمیونٹی کے افراد کو تعاون کی ترغیب دی۔
فیصلہ کیا گیا کہ جو لوگ مقامی جم جانا چاہتے ہیں انہیں سالانہ ممبرشپ دی جائے گی اور ممبرشپ کارڈ پر فیس ادا کرنے والے شخص کا نام درج ہوگا۔ دیپک اس تجویز سے متفق ہو گئے اور انہوں نے رسیدیں جاری کرنا شروع کر دی ہیں۔اس کے علاوہ وکلاء کے گروپ نے عدالتی کارروائی میں مفت قانونی مدد فراہم کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔
ایک وکیل نے کہا“اب تک 20 سے زائد وکلاء اس پہل میں شامل ہو چکے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ 26 جنوری کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے اپنائے گئے مؤقف کے قانونی نتائج کو چیلنج کرنے کے لیے دیپک کو بہترین ممکنہ مفت قانونی نمائندگی ملے۔”وکیل نے مزید کہا کہ اس اقدام کا مقصد دیپک کے
عمل کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا اور یہ پیغام دینا ہے کہ“صحیح بات کے لیے کھڑے ہونے کی بڑی قیمت چکانی پڑ سکتی ہے، لیکن برادری اس بات کو یقینی بنائے گی کہ اس کا نتیجہ تباہی نہ ہو۔”اداکارہ سورا بھاسکر اور مصنف ہرش مندر سمیت کئی افراد نے بھی سوشل میڈیا پر ان کی حمایت کی اور مالی مدد کے طور پر
ممبرشپ لینے کی تجویز دی۔رابطہ کرنے پر دیپک نے دوبارہ واضح کیا کہ وہ نقد رقم قبول نہیں کریں گے صرف ممبرشپ فیس لیں گے۔ انہوں نے کہا“جن لوگوں نے مجھ سے رابطہ کیا ہے میں نے سب کو بتا دیا ہے
کہ میں کیش قبول نہیں کر رہا۔ کئی لوگوں نے ممبرشپ کے لیے فون کیا ہے۔”



