عدالتی نظام پر اسکولی نصاب میں متنازعہ سبق – سپریم کورٹ کا سخت نوٹس — حکومت کی معافی ؛ اٹھویں کی کتاب واپس

نئی دہلی _. قومی تعلیمی تحقیق و تربیت کونسل ( این سی ای آر ٹی) کی آٹھویں جماعت کی سماجی علوم کی نئی کتاب میں عدالتی نظام میں بدعنوانی سے متعلق ایک باب شامل کیے جانے پر بڑا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ اس معاملے پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے سماعت شروع کی اور سخت ناراضی ظاہر کی۔ عدالت نے کہا کہ یہ قدم عدلیہ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے اور ذمہ دار افراد کو سزا ملنی چاہیے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس جسٹس سوریا کانت نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا مواد عدالتی نظام کی عزت کو مجروح کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسے نظر انداز کیا گیا تو عوام اور نوجوانوں کے دلوں میں عدلیہ کا تقدس متاثر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدلیہ کے کردار پر باب تو رکھا گیا، لیکن عدالتوں کی عظیم تاریخ کو نظر انداز کر دیا گیا، جو تشویش کی بات ہے۔ جب تک جواب دہی طے نہیں ہوگی، معاملہ نہیں چھوڑا جائے گا۔
مرکزی حکومت کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت میں غیر مشروط معافی مانگی اور واضح کیا کہ حکومت اس مواد کا دفاع نہیں کر رہی۔
سینئر وکلا کپل سبل اور ابھیشیک سنگھوی نے عدالت کی توجہ دلائی تھی کہ کتاب میں عدلیہ کے بارے میں قابلِ اعتراض باتیں شامل ہیں، جس پر عدالت نے سخت برہمی ظاہر کی۔
مرکزی وزارتِ تعلیم نے ہدایت دی ہے کہ اس متنازعہ باب والی کتاب کی تقسیم فوری طور پر روک دی جائے۔ متعلقہ ادارے نے وضاحت کی ہے کہ نصاب میں غیر متعلقہ مواد شامل ہو گیا تھا اور فیصلہ کرنے میں غلطی کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوئی۔ کتاب کو سرکاری ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا ہے اور اس پر معذرت بھی کی گئی ہے۔



