نیشنل

“میرا نام محمد دیپک ہے” کہنے پر ہنگامہ — مسلم دکاندار کے دفاع میں اترنے والے ہندو جم مالک کو بجرنگ دل کے غنڈوں کی دھمکیاں، ایف آئی آر درج

حیدرآباد _ یکم فروری( اردولیکس ڈیسک) میں نہ ہندو ہوں، نہ مسلمان، نہ سکھ اور نہ ہی عیسائی۔ سب سے پہلے میں ایک انسان ہوں، کیونکہ مرنے کے بعد مجھے خدا اور انسانیت کے سامنے جواب دینا ہے، کسی مذہب کے سامنے نہیں،‘‘ یہ بات اتراکھنڈ کے کوٹدوار میں واقع ایک جم کے مالک دیپک کمار نے انسٹاگرام پر جاری ایک ویڈیو میں کہی۔ وہ ان دھمکیوں کے جواب میں بات کر رہے تھے جو انہیں اپنے ان خیالات کی وجہ سے مل رہی ہیں، خاص طور پر اس واقعے کے بعد جب انہوں نے بجرنگ دل سے وابستگی کا دعویٰ کرنے والے چند افراد کے ہاتھوں ایک مسلم دکاندار کو ہراسانی سے بچایا۔

 

ہفتہ کے روز دیپک کے گھر کے باہر ایک ہجوم جمع ہوگیا، جس کے بعد پولیس کو مداخلت کرنی پڑی۔ دیپک نے بعد میں تصادم کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کیں اور بھارت کے سیکولر نظریے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’میں پیچھے ہٹنے والا نہیں ہوں۔‘‘

 

یہ پورا معاملہ ہندوتوا تنظیم سے وابستہ افراد کے ساتھ دیپک کے تصادم سے شروع ہوا، جس دوران انہوں نے کہا تھا، ’’میرا نام محمد دیپک ہے۔‘‘ بعد میں دیپک نے وضاحت کی کہ اس جملے کا مقصد اپنی ہندو شناخت کو مسلمانوں کی شناخت کے ساتھ جوڑ کر بھارت کے ہم آہنگ تصور کو پیش کرنا تھا۔

 

یہ جملہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگیا، تاہم اس کے ساتھ ہی دیپک کے لیے خطرات بھی بڑھ گئے۔ وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دیپک ہجوم کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ پولیس دونوں فریقین کو الگ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

 

بعد میں جاری ایک ویڈیو میں دیپک نے کہا، ’’میں آپ سب—اپنے بھائیوں، بہنوں اور دوستوں—سے صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے ملک کو نفرت نہیں بلکہ محبت اور بھائی چارے کی ضرورت ہے۔ نفرت پھیلانا آسان ہے، مگر محبت پھیلانا بہت بڑی بات ہے۔‘‘

 

دیپک 26 جنوری کو ایک دوست کی دکان پر موجود تھے جب انہوں نے دیکھا کہ ایک ہجوم 70 سالہ مسلم دکاندار وکیل احمد کو دھمکا رہا ہے۔ ہجوم کا مطالبہ تھا کہ احمد اپنی دکان ’بابا اسکول ڈریس‘ کے نام سے ’بابا‘ کا لفظ ہٹا دیں۔ بابا عام طور پر بزرگ یا مذہبی افراد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اور ہجوم کا کہنا تھا کہ یہ لفظ صرف ہندو مذہبی شخصیات کے لیے مخصوص ہے۔

 

وائرل ویڈیو میں دیپک کو ہجوم سے یہ سوال کرتے دیکھا جا سکتا ہے کہ اگر دوسرے لوگ ’بابا‘ استعمال کر سکتے ہیں تو احمد کیوں نہیں؟ انہوں نے کہا، ’’یہ دکان 30 سال پرانی ہے، کیا آپ اب اس کا نام بدلوانا چاہتے ہیں؟‘‘

 

جب ہجوم میں شامل ایک شخص نے دیپک سے ان کی شناخت جاننے کے لیے نام پوچھا تو انہوں نے جواب دیا، ’’میرا نام محمد دیپک ہے۔‘‘

 

دیپک نے بعد میں ’دی انڈین ایکسپریس‘ کو بتایا، ’’میرا مقصد یہ بتانا تھا کہ میں ایک ہندوستانی ہوں اور قانون کے سامنے سب برابر ہیں۔‘‘

 

اس واقعے کے بعد دیپک کمار کو ایکس (سابق ٹوئٹر)، انسٹاگرام اور فیس بک پر دائیں بازو سے وابستہ اکاؤنٹس کی جانب سے گالی گلوچ اور دھمکیوں کا سامنا ہے۔ ان کے انسٹاگرام پروفائل پر تبصروں کی بھرمار ہے، جن میں مسلمانوں اور دیگر حلقوں کی جانب سے حمایت کے پیغامات بھی ہیں، جبکہ ہندوتوا سے وابستہ صارفین انہیں ’’غدار‘‘ اور دیگر توہین آمیز القابات سے نواز رہے ہیں۔

 

بعد ازاں وکیل احمد کی شکایت پر پاوڑی گڑھوال کے کوٹدوار پولیس اسٹیشن میں دھمکی اور حملے سے متعلق دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔ احمد نے اپنی شکایت میں کہا ہے، ’’26 جنوری کو تین سے چار لڑکے میری دکان پر آئے اور خود کو بجرنگ دل کا رکن بتایا۔ انہوں نے مجھ سے دکان کے نام میں موجود ’بابا‘ کا لفظ بدلنے کو کہا۔ مجھے دھمکایا گیا اور کہا گیا کہ اگر میں نے نام تبدیل نہ کیا تو اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔‘‘

متعلقہ خبریں

Back to top button