نیشنل

دہلی فسادات کیس: شرجیل امام کو 10 دن کی عبوری ضمانت منظور

دہلی کی ایک عدالت نے 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات کی مبینہ سازش سے متعلق کیس میں اسٹوڈنٹ لیڈر شرجیل امام کو 10 دن کی عبوری ضمانت دے دی ہے۔ عدالت نے انہیں یہ راحت اپنے بھائی کی شادی میں شرکت اور اپنی علیل والدہ کی دیکھ بھال کے لیے فراہم کی ہے۔

 

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب چند ماہ قبل جنوری 2026 میں سپریم کورٹ نے اسی کیس میں شرجیل امام اور شریک ملزم عمر خالد کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

 

شرجیل امام ان متعدد افراد میں شامل ہیں جن کے خلاف فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں پھوٹ پڑنے والے فرقہ وارانہ فسادات کی مبینہ بڑی سازش کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ان فسادات میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

 

اس کیس کی تفتیش دہلی پولیس کر رہی ہے، جس کا الزام ہے کہ یہ تشدد شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جاری احتجاج کے دوران عوامی نظم و نسق کو درہم برہم کرنے کے لیے ایک پہلے سے طے شدہ سازش کا نتیجہ تھا۔

 

جنوری میں سپریم کورٹ نے شرجیل امام اور عمر خالد کی ضمانت مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کردہ مواد بادی النظر میں مبینہ سازش میں ان کے کردار کی نشاندہی کرتا ہے۔

 

تاہم اسی مقدمے میں عدالت نے دیگر پانچ ملزمین — گل فشہ فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمن، محمد سلیم خان اور شاداب احمد — کو ضمانت دے دی تھی، یہ کہتے ہوئے کہ ان کا کردار شرجیل امام اور عمر خالد سے مختلف نوعیت کا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button