نیشنل

"غیر ضروری گیس بک نہ کریں” مرکزی حکومت کی اپیل

نئی دہلی: مغربی ایشیا میں جاری تنازعات کے باعث ایندھن کے بارے میں خدشات پیدا ہونے کے باوجود مرکزی حکومت نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ملک میں ایل پی جی (LPG) کی کوئی کمی نہیں ہے۔

 

پٹرولیم محکمہ کی جوائنٹ سیکریٹری سجاتا شرما نے کہا کہ گیس کے بارے میں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے اور ملک میں ایل پی جی کی مقامی پیداوار میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت ملک میں گیس کی طلب میں غیر معمولی فرق نظر آ رہا ہے

 

اور لوگوں کو مشورہ دیا کہ بغیر ضرورت صرف خوف یا تشویش کی وجہ سے گیس سلنڈر کی بکنگ نہ کریں۔انہوں نے کہا“جنگ سے پہلے روزانہ تقریباً 55.7 لاکھ سلنڈر بک ہوتے تھے لیکن اب یہ تعداد اچانک بڑھ کر 75.7 لاکھ ہو گئی ہے۔

 

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ خدشات کے باعث زیادہ بکنگ کر رہے ہیں۔ ہم عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ کسی بھی قسم کی افواہیں نہ پھیلائیں۔”

 

انہوں نے مزید کہا کہ اگر خام تیل کی بات کی جائے تو بھارت کے پاس 258 ملین میٹرک ٹن ریفائننگ صلاحیت موجود ہے۔ ملک نے پٹرول اور ڈیزل کی پیداوار میں خود کفالت حاصل کر لی ہے۔

 

موجودہ حالات میں درآمدات پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ تمام ریفائنریز 100 فیصد صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں، اس لیے فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔

 

دوسری طرف حکومت بڑے شہروں میں ان تجارتی صارفین کے خدشات دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو مکمل طور پر ایل پی جی پر انحصار کرتے ہیں۔ جن علاقوں میں پی این جی (PNG) کی سہولت موجود ہے وہاں گیس کنکشن کے لیے مقامی سٹی گیس ڈسٹری بیوشن (CGD) سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

 

انہوں نے یہ بھی کہا کہ تمام پٹرول پمپوں پر پٹرول اور ڈیزل پوری طرح دستیاب ہیں۔ اس وقت صرف ایل پی جی کے بارے میں خدشات پیدا ہو رہے ہیں، لیکن ملک بھر کے 25 ہزار ڈسٹری بیوٹرز میں سے کسی نے بھی گیس کی کمی کی اطلاع نہیں دی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button