دوہرے قتل کیس میں ایک ہی خاندان کے 13 افراد کو عمر قید کی سزا
اترپردیش کے سہارنپور ضلع میں تقریباً 9 سال پرانے دوہرے قتل کیس میں مقامی عدالت نے ایک ہی خاندان کے 13 افراد کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے ہر ملزم پر 50 ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے، اور جرمانہ نہ دینے کی صورت میں 6 ماہ اضافی قید بھگتنی ہوگی۔
یہ واقعہ 12 نومبر 2016 کو تھانہ گنگوہ کے علاقے کے کندا خورڈ گاؤں میں پیش آیا۔ وکیل اور متاثرہ خاندان کی رکن اسراء کے مطابق، صبح تقریباً ساڑھے دس بجے ملزمین مّنور، مُصطفی، سنور، مُستقیم، شوقین، محسن، انور، اسلام، گلزار، جمشید، پرویز، پپو، رقیب سمیت دیگر افراد ہتھیاروں سے لیس ہو کر ان کے گھر میں داخل ہوئے۔ ملزمین کا مقصد اسراء کے کھیت پر قبضہ کرنا تھا۔
جب اسراء کے والد یامین، چچا تحسین، اختر، علی جان، گلفام اور لیاقت نے مزاحمت کی تو ملزمین نے جان سے مارنے فائرنگ کی اور تیز دھار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ اس حملے میں یامین اور تحسین موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جبکہ اختر، علی جان، گلفام اور لیاقت شدید زخمی ہوئے۔ گولیوں کی آواز سن کر علاقے کے دیگر کسان موقع پر پہنچے تو ملزمین جان سے مارنے کی دھمکی دیتے ہوئے فرار ہو گئے۔
پولیس نے متاثرہ کی شکایت پر مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کیں اور بعد ازاں ملزمین کو گرفتار کر کے عدالت میں چارج شیٹ پیش کی۔
مقدمے کی سماعت اپر سیشن جج کمرہ نمبر 3، جسٹس وکاس گپتا کی عدالت میں جاری رہی۔ عدالت نے کیس کی دستاویزی شہادتوں اور گواہوں کے بیانات کی بنیاد پر 13 ملزمین کو قصوروار قرار دیا۔ ایک ملزم پپو کا معاملہ ابھی زیرِ غور ہے۔
عدالت نے سنور، مستقیم، شوقین، محسن، گلزار، پرویز، انور (بیٹے نتھو)، رویب، مصطفی، انور (بیٹے باکر)، اسلام، جمشید اور مّنور کو قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا اور 50-50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ تمام سزائیں ساتھ ساتھ چلیں گی، اور مقدمے کے دوران جیل میں گزارے گئے وقت کو سزا میں شامل کیا جائے گا۔
فیصلہ سناتے وقت عدالت کے احاطے میں سخت سیکورٹی کے انتظامات کیے گئے۔ سزا سنائے جانے کے بعد تمام ملزمان کو پولیس کی نگرانی میں ضلع جیل بھیج دیا گیا۔



