نیشنل

ممبئی کے سیاسی میدان میں زلزلہ، ٹھاکرے عہد کا سورج غروب

ممبئی _ ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیوسینا (یو بی ٹی) کے لئے ممبئی میٹروپولیٹن علاقہ ہمیشہ سے کلیدی حیثیت رکھتا آیا ہے۔ دہائیوں قبل یہیں بال ٹھاکرے کی سرکردگی میں شیوسینا کا قیام عمل میں آیا اور اس کے بعد ملک کے معاشی دارالحکومت پر پارٹی کا اثر و رسوخ قائم رہا۔ تاہم حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ادھو ٹھاکرے کو اپنے بھائی راج ٹھاکرے کی حمایت حاصل ہونے کے باوجود کامیابی نصیب نہ ہو سکی اور پارٹی کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ بی جے پی–شیوسینا اتحاد نے شاندار کامیابی حاصل کی۔

 

موجودہ نتائج کے مطابق برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن کے 227 وارڈز میں سے بی جے پی اور شیوسینا پر مشتمل مہایوتی اتحاد 116 وارڈز میں سبقت لئے ہوئے ہے، جبکہ شیوسینا (یو بی ٹی) اتحاد 85 وارڈز میں آگے ہے۔

 

بال ٹھاکرے کے دور میں بی جے پی کے ساتھ خوشگوار تعلقات رہے، لیکن ادھو ٹھاکرے کے اقتدار سنبھالنے کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر دعویٰ اور اس پر بی جے پی کی عدم رضامندی کے باعث اتحاد ٹوٹ گیا۔ اس سے قبل ہی بال ٹھاکرے کے بھائی کے فرزند راج ٹھاکرے نے پارٹی سے الگ ہو کر مہاراشٹر نو نرمان سینا قائم کر لی تھی، جس سے پارٹی کی طاقت پہلے ہی متاثر ہو چکی تھی۔

 

2019 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی اور شیوسینا نے مل کر مقابلہ کیا، بعد ازاں ادھو ٹھاکرے نے کانگریس اور این سی پی کے تعاون سے وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالا۔ بعد کے سیاسی واقعات میں بغاوت کے نتیجے میں شیوسینا سے الگ ہو کر ایک ناتھ شندے نے بی جے پی سے ہاتھ ملا لیا، جس سے حکومت گر گئی اور شندے وزیر اعلیٰ بن گئے۔ اس کے بعد سے شیوسینا (یو بی ٹی) کا اثر بتدریج کم ہوتا چلا گیا۔

 

دو دہائیوں تک ایک دوسرے کے مدِمقابل رہنے والے ٹھاکرے برادران نے حالیہ ممبئی انتخابات میں مل کر مقابلہ کیا، مگر اقتدار حاصل نہ کر سکے، جس پر سیاسی حلقوں میں ’’صفر جمع صفر‘‘ جیسے طنزیہ تبصرے کئے جا رہے ہیں۔ ان انتخابات میں بی جے پی–شیوسینا اتحاد مضبوط قوت کے طور پر ابھرا۔ گجراتیوں اور تملوں سے متعلق ٹھاکرے برادران کے بیانات نے مختلف طبقات میں تشویش پیدا کی، جس کے نتیجے میں ان طبقات نے بی جے پی کو ووٹ دیا۔

 

انتخابی رجحانات سے واضح ہوتا ہے کہ شیوسینا (یو بی ٹی) کے لئے دوبارہ مضبوط انداز میں ابھرنا آسان نہیں ہوگا۔ ایک وقت تھا جب ٹھاکرے خاندان ممبئی پر اشاروں سے حکمرانی کرتا تھا، مگر آج پردۂ منظر میں جانا ان کی اپنی سیاسی حکمتِ عملی کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button