نیشنل

جموں و کشمیر کے سابق چیف منسٹر فاروق عبداللہ پر انتہائی قریب سے فائرنگ کی کوشش

جموں و کشمیر کے سابق چیف منسٹر فاروق عبداللہ پر انتہائی قریب سے فائرنگ کی کوشش

نئی دہلی ۔ نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ اور جموں و کشمیر کے ڈپٹی چیف منسٹر سریندر چودھری چہارشنبہ کے روز ایک مسلح حملہ آور کے حملے میں محفوظ رہے۔

 

فوری طور پر ملی جانکاری کے مطابق حکام نے بتایا کہ یہ واقعہ جموں کے مضافات میں ایک فنکشن ہال کے باہر پیش آیا۔حکام کے مطابق ملزم کمال سنگھ جو پرانی منڈی جموں کا رہنے والا ہے سیکیورٹی گارڈس کی کارروائی کے بعد قابو پایا گیا اور پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا۔

 

ایک مسلح حملہ آور نے سابق چیف منسٹر فاروق عبداللہ کے قریب آ کر پوائنٹ بلاک سے گولی چلانے کی کوشش کی، تاہم سیکیورٹی اہلکاروں نے فوراً کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو قابو میں کر لیا۔ یہ واقعہ سی سی ٹی وی میں بھی ریکارڈ ہو گیا۔

 

پولیس کے بیان کے مطابق”جب فاروق عبداللہ شادی کی تقریب میں شرکت کر رہے تھے تو ان پر جان لیوا حملہ کیا گیا۔ تقریب میں تعینات سیکیورٹی عملے نے فوراً کارروائی کرتے ہوئے حملے کو ناکام بنایا اور ملزم کو حراست میں لے لیا جس کی شناخت بعد میں کمال سنگھ، پُرانی منڈی جموں کے اجیت سنگھ کے بیٹے کے طور پر ہوئی۔”

 

جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس واقعہ کو اپنے والد پر قاتلانہ حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ وہ محفوظ رہے ۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ان کے والد کو بالکل قریب سے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن سکیورٹی ٹیم کی بروقت کارروائی نے اس حملے کو ناکام بنا دیا۔

 

حکام نے مزید بتایا کہ عبداللہ اور چوہدری پارٹی رہنما بی ایس چوہان کے بیٹے کی شادی کی تقریب میں ان سے ملاقات اور مبارکباد دینے کے لیے آئے تھے۔ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

 

 

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button