نیشنل

گھر واپسی کے بعد 4بچوں کے ساتھ لاپتہ ہونے کا معاملہ — مس انڈیا ارتھ 2019 کی تلاش جاری

مس انڈیا ارتھ 2019 کی فاتح سیلی سروے، پونے سے اچانک لاپتہ ہو گئی ہیں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب چند روز قبل انہوں نے  “گھر واپسی” تقریب میں مسلمان سے  دوبارہ ہندو مذہب اختیار کرنے کا اعلان کیا تھا اور اپنے مسلم شوہر پر جسمانی و ذہنی تشدد کے الزامات عائد کیے تھے۔

 

گھر والوں کا الزام ہے  سیلی سروے اور ان کے چار بچوں کو مبینہ طور پر سسرالی افراد نے اغوا کیا ہے، جبکہ پولیس نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

 

کون ہیں سیلی سروے؟

سیلی سروے ایک ماڈل ہیں اور ایوی ایشن میں ماسٹر ڈگری رکھتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں انہوں نے اپنا نام آدیا سروے رکھا اور دوبارہ ہندو مذہب اختیار کرنے کے بعد سرخیوں میں آئیں۔ انہوں نے اپنے شوہر سے علیحدگی کے بعد برسوں تک جاری رہنے والے تشدد کا الزام عائد کیا تھا۔

 

اطلاعات کے مطابق سیلی سروے نے خاندانی مخالفت کے باوجود میرابھائندر کے مسلم تاجر  عاطف تاسے سے پسند کی شادی کی تھی اور اسلام قبول کرتے ہوئے اپنا نام عتیزہ تاسے رکھ لیا تھا۔

 

بعد ازاں انہوں نے اس شادی کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی قرار دیا اور الزام لگایا کہ شادی کے فوراً بعد ہی انہیں استحصال اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ چار بچوں کی خاطر وہ طویل عرصے تک اس صورتحال کو برداشت کرتی رہیں۔

 

میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب انسان کو 24 گھنٹے گالیاں سننی پڑیں اور بلاوجہ مارپیٹ کا سامنا کرنا پڑے تو آہستہ آہستہ وہ سب معمول لگنے لگتا ہے جو پہلے ناقابل قبول تھا۔

 

انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ان پر مذہبی تبدیلی کے تعلق سے دباؤ ڈالا گیا اور پولیس سے رجوع کرنے کے باوجود مناسب کارروائی نہیں ہوئی۔سیلی سروے نے اس معاملے کو “لو جہاد” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت انہوں نے یہ فیصلہ کم فہمی میں کیا تھا۔

 

پولیس کے مطابق معاملہ کی ہر پہلو سے جانچ کی جا رہی ہے اور لاپتہ خاتون اور بچوں کی تلاش جاری ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button