ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کے انتقال پر بھارت کا اظہارِ تعزیت، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تشویش

بھارت نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ ہندوستان کے خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے جمعرات کو نئی دہلی میں ایران کے سفیر سے ملاقات کرتے ہوئے تعزیتی رجسٹر پر دستخط کئے۔ آیت اللہ خامنہ ای کا انتقال اتوار کے روز تہران میں امریکہ اور اسرائیل کی فضائی کارروائی کے چند گھنٹوں بعد ہوا تھا۔
اسی دوران ایس جے شنکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ حالات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
بھارت کی جانب سے تعزیت کا اظہار ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو امریکہ، اسرائیل اور یورپی یونین کے جہازوں کے علاوہ دیگر تمام ممالک کے لئے کھلا رکھے گا۔ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ، اسرائیل یا ان کے اتحادیوں کے جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل ہوئے تو انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ہمیشہ ایسے تنازعات کے حل کے لئے مذاکرات اور سفارت کاری کی حمایت کرتا رہا ہے۔
عالمی سطح پر بیشتر ممالک نے خامنہ ای کی ہلاکت پر باقاعدہ تعزیت کا اظہار نہیں کیا، جبکہ روس اور چین ان چند اہم ممالک میں شامل ہیں جنہوں نے تعزیتی پیغام جاری کیا۔ بھارت کے اس ردعمل کو محتاط سفارتی قدم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ نئی دہلی ایک طرف ایران کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو برقرار رکھنا چاہتا ہے تو دوسری جانب اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ بھی اس کے قریبی اسٹریٹجک اور معاشی روابط موجود ہیں۔
یاد رہے کہ ماضی میں بھارت اپنی تیل کی ضروریات کا تقریباً 13 فیصد حصہ ایران سے حاصل کرتا تھا، تاہم 2018 میں امریکہ کی جانب سے ایران پر پابندیاں عائد کئے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں کمی آ گئی۔ اس کے ساتھ ہی گزشتہ برسوں میں بھارت اور اسرائیل کے درمیان اسٹریٹجک، معاشی اور دفاعی تعاون میں بھی تیزی آئی ہے، جس کے باعث نئی دہلی کی سفارتی پالیسی میں توازن برقرار رکھنے کی کوششیں مزید اہم ہو گئی ہیں۔



