نیشنل

کرناٹک ہائیکورٹ نے بائیک ٹیکسیوں پر عائد پابندی ختم کر دی

بنگلور۔ چیف جسٹس وبھو باکھرو اور جسٹس سی ایم جوشی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کیاب ایگریگیٹرس جیسے اے این آئی ٹیکنالوجیس (جو اولا کیبز کی مالک ہے) اوبر اور ریاپیڈو کی جانب سے دائر اپیلیں منظور کر لیں۔

 

ان اپیلوں میں سنگل جج کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا تھا جس کے تحت کرناٹک میں بائیک ٹیکسی خدمات کو اس وقت تک معطل کرنے کی ہدایت دی گئی تھی جب تک ریاست اس طرح کی سروسیس کے لیے قواعد وضع نہ کرے۔

 

بینچ نے اپریل 2025 میں جاری کیے گئے سنگل جج کے اس حکم کو کالعدم قرار دے دیا جس کے تحت بائیک ٹیکسیوں پر پابندی عائد کی گئی تھی۔عدالت نے آج یہ قرار دیا کہ بائیک ٹیکسی خدمات میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکلیں موٹر وہیکلس ایکٹ 1988 کے تحت “ٹرانسپورٹ گاڑیوں” کی تعریف میں آتی ہیں۔

 

لہٰذا ریاستی حکومت اس بنیاد پر ایسے گاڑیوں کو پرمٹ دینے سے انکار یا انہیں مسترد نہیں کر سکتی کہ موٹر سائیکلیں ٹرانسپورٹ گاڑیاں نہیں ہیں۔عدالت نے مزید کہا کہ بائیک ٹیکسی آپریٹرس موٹر سائیکلوں کو بائیک ٹیکسی کے طور پر چلانے کے لیے کنٹریکٹ کیریج پرمٹس حاصل کرنے کی درخواستیں دے سکتے ہیں۔

 

اگرچہ ریاستی حکومت تمام متعلقہ پہلوؤں کا جائزہ لینے میں آزاد ہے تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ ایسی درخواستیں منظور کی جائیں یا نہیں تاہم عدالت نے واضح کیا کہ صرف اس بنیاد پر پرمٹ سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ گاڑی ایک موٹر سائیکل ہے۔

 

عدالتی حکم میں کہا گیا کہ “ٹیکسی مالکین کو اس بات کی آزادی ہے کہ وہ گاڑی کو بطور ٹرانسپورٹ گاڑی رجسٹر کرانے کے لیے درخواستیں دائر کریں۔ عدالت نے کہا کہ ہم ریاستی حکومت کو ہدایت دیتے ہیں کہ وہ ایسی درخواستوں پر غور کرے اور گاڑی کے مالکین کو کنٹریکٹ کیریج کے طور پر کام کرنے کی اجازت دے۔

 

اگرچہ متعلقہ اتھارٹیس کو تمام متعلقہ پہلوؤں کا جائزہ لینے سے نہیں روکا گیا ہے تاہم اس بنیاد پر اجازت سے انکار نہیں کیا جائے گا کہ موٹر سائیکلیں ٹرانسپورٹ گاڑی یا کنٹریکٹ کیریج کے طور پر نہیں چل سکتی ہیں۔ ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی موٹر وہیکلز ایکٹ کی دفعہ 74(2) کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون کے مطابق ضروری شرائط عائد کر سکتی ہے۔

 

ایگریگیٹرس کو بھی نئی درخواستیں دائر کرنے کی آزادی حاصل ہے اور اگر ایسی درخواستیں دائر کی جاتی ہیں تو ان پر قانون اور اس عدالت کے مشاہدات کے مطابق غور کیا جائے گا۔ زیرِ چیلنج حکم کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے اور اپیلیں مذکورہ شرائط کے تحت منظور کی جاتی ہیں۔

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button