نیشنل

مدھیہ پردیش کے ہیڈ کانسٹبل فیروز خان پر 64 کروڑ روپے سے زائد کے اثاثے رکھنے کا الزام – 46جائیدادیں جانچ کے دائرے میں ؛ لوک آیکت کی تحقیقات جاری

اندور:  مدھیہ پردیش کے اندور میں لوک آیکت پولیس کی تحقیقات میں ہیڈ کانسٹبل فیروز خان، اس کے افراد خاندان، ساتھیوں اور متعلقہ کمپنیوں کے نام پر 46 غیرمنقولہ جائیدادیں  رکھنے کا الزام عائد ہوا ہے، جن کی موجودہ بازاری مالیت 64 کروڑ روپے سے زائد بتائی گئی ہے۔ فیروز خان اندور کے پولیس ٹریننگ کالج میں ڈرائیور کی حیثیت سے تعینات ہے۔

 

لوک آیکت پولیس نے 14 اکتوبر کو اندور اور دیواس میں اس سے متعلق 15 مقامات پر تلاشی لی تھی۔ تحقیقات کے مطابق جائیدادوں کی سرکاری رہنما قیمت تقریباً 17.19 کروڑ روپے ہے، جبکہ منقولہ اور غیرمنقولہ اثاثوں کی خریداری پر مجموعی طور پر تقریباً 18.80 کروڑ روپے خرچ کئے گئے۔ پولیس محکمہ میں 24 سالہ ملازمت کے دوران فیروز خان کی تنخواہ سے آمدنی تقریباً 75 لاکھ روپے اور دیگر ذرائع سمیت مجموعی جائز آمدنی تقریباً 1.94 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔

 

تحقیقات میں اندور ضلع میں اسپارک ویو ریئلٹی انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام پر زرعی اراضی خریدے جانے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ کمپنی فیروز خان کی اہلیہ حنا خان اور اندور کے ایک شہری یوراج پنوار چلاتے ہیں۔

 

لوک آیکت پولیس جائیدادوں کی خریداری کے لئے رقم کے ذرائع اور متعلقہ مالی لین دین کی جانچ کررہی ہے۔ فیروز خان کو طویل عرصے تک ڈیوٹی سے غیرحاضر رہنے کے معاملہ میں معطل بھی کیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button