نیشنل

ریاست بہار کے معروف مولانا عبداللہ سلیم کو اترپردیش پولیس نے گرفتار کرلیا – یوگی آدتیہ ناتھ کی ماں کے خلاف نازییا ریمارکس کا الزام

اتر پردیش اسپیشل ٹاسک فورس (STF) نے پیر کی دیر رات بہار کے ضلع ارریہ کے جوکی ہاٹ سے تعلق رکھنے والے مذہبی رہنما مولانا عبداللہ سلیم کو حراست میں لے لیا۔ یہ کارروائی اتر پردیش کے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کی ماں کے بارے میں مبینہ نازیبا ریمارکس کے معاملے میں کی گئی۔

 

ذرائع کے مطابق ایس ٹی ایف ٹیم نے سلیم کو پورنیہ سے حراست میں لے کر مزید قانونی کارروائی کیلئے اتر پردیش منتقل کیا۔ ان کے خلاف ریاست میں درج مقدمات ایک عوامی اجتماع کے دوران دیے گئے مبینہ متنازع بیان سے متعلق ہیں، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔

 

پولیس نے ان کے خلاف دو ایف آئی آر درج کی ہیں، جن میں ایک بہرائچ کے نگر کوتوالی تھانے میں جبکہ دوسری بلرام پور ضلع میں درج کی گئی۔ بہرائچ میں وشوا ہندو پریشد کے مقامی لیگل سیل کے کنوینر اجیت پرتاپ سنگھ کی شکایت پر مقدمہ درج ہوا، جس میں الزام لگایا گیا کہ مولانا نے وزیر اعلیٰ کی والدہ کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کی۔

 

مقدمہ بھارتیہ نیایا سنہتا (BNS) کی مختلف دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے، جن میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے، مذہبی جذبات مجروح کرنے اور غلط معلومات پھیلانے سے متعلق دفعات شامل ہیں۔ اس سے قبل 7 مارچ کو بلرام پور میں بی جے پی ضلع صدر روی مشرا کی شکایت پر بھی ایک اور مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

 

یہ تنازع رمضان کے دوران بہار میں منعقد ایک مذہبی اجتماع کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد شروع ہوا، جس کے بعد بلرام پور، بستی، سیتاپور اور کانپور سمیت کئی اضلاع میں احتجاجی مظاہرے ہوئے اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

 

بی جے پی ایم ایل اے سریندر ڈیلر نے بھی پولیس حکام کو خط لکھ کر سخت کارروائی کا مطالبہ کیا، جبکہ رکن پارلیمنٹ اور اداکار روی کشن نے اس بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی ثقافت میں ماں کا مقام سب سے بلند ہے اور اس طرح کے بیانات ناقابلِ قبول ہیں۔

 

واضح رہے کہ مولانا عبداللہ سلیم بہار کے ایک معروف مذہبی مقرر ہیں، جو اپنے خطابات میں قرآن کے ساتھ ساتھ گیتا اور رامائن جیسے ہندو مذہبی متون کا حوالہ دینے کیلئے بھی جانے جاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button