مودی کو واضح کرنا چاہیے کہ آیا اسرائیلی وزیر اعظم نے انھیں ایران پر حملے کے منصوبہ کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔ بیرسٹر اسد الدین اویسی کا سوال

"بیرسٹر اویسی نے کہا کہ مودی کو واضح کرنا چاہیے کہ آیا اسرائیلی وزیر اعظم بنجامین نیتن یاہو نے انھیں ایران پر حملے کے منصوبے کے بارے میں آگاہ کیا تھا”
حیدرآباد /بیرسٹر اسد الدین اویسی صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین اور رکن پارلیمنٹ حیدرآباد نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا دورہ اسرائیل بے وقت تھا اور اس دورے کا استعمال اسرائیل نے اپنے مفاد کے لیے کیا۔
بیرسٹر اویسی نے کہا کہ مودی کو واضح کرنا چاہیے کہ آیا اسرائیلی وزیر اعظم بنجامین نیتن یاہو نے انھیں ایران پر حملے کے منصوبے کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔ اگر نیتن یاہو نے انہیں مطلع کیا تھا تو مودی کو اپنا دورہ مختصر کر کے واپس آ جانا چاہیے تھا اور اگر ایسا نہیں ہوا تو یہ ہندوستانی عوام کے ساتھ دغا بازی کے مترادف ہے۔
انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اسرائیل نے ایران پر حملے اور غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف کارروائیوں کی پردہ پوشی کے لیے وزیر اعظم کے دورے کا فائدہ اٹھایا۔ اویسی نے خبردار کیا کہ اس سے یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ ہندوستان ایران کا نہیں بلکہ اسرائیل کا حمایتی ہے۔
بیرسٹر اویسی نے کہا کہ خلیجی ممالک میں تقریباً ایک کروڑ ہندوستانی شہری مقیم ہیں، جبکہ ایران میں تقریباً 50 ہزار اور اسرائیل میں 10 ہزار بھارتی شہری رہائش پذیر ہیں۔ موجودہ حالات میں یہ لوگ متاثر ہو سکتے ہیں اس لیے حکومت کو ان کی حفاظت کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ مودی کے دورے سے ہندوستان کے مفادات کس طرح پورے ہوئے؟ اویسی نے الزام لگایا کہ اسرائیل نے دنیا کو یہ پیغام دینے کے لیے دورے کا استعمال کیا کہ ہندوستان اس کے ساتھ ہے۔ بیرسٹر اویسی نے زور دیا کہ ہندوستانی شہریوں کو محفوظ طریقے سے واپس لانا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔



