نیشنل

ممبئی یونیورسٹی کے اردو جلسے سے نصیرالدین شاہ کی شرکت آخری لمحے میں منسوخ

ممبئی یونیورسٹی کے اردو جلسے سے نصیرالدین شاہ کی شرکت آخری لمحے میں منسوخ

وائس آف اردو کی ویڈیو کے بعد معاملہ سرخیوں میں آیا

سیکیورٹی خدشات کا حوالہ، ادبی و تعلیمی حلقوں میں تشویش کی لہر

ممبئی: ممبئی یونیورسٹی میں اردو زبان و ادب کے فروغ کے مقصد سے منعقد دو روزہ ’’اردو جلسہ‘‘ میں ممتاز اداکار اور دانشور نصیرالدین شاہ کی شرکت کو عین آخری وقت میں منسوخ کیے جانے کے واقعے نے ادبی اور تعلیمی حلقوں میں تشویش اور بحث کو جنم دے دیا ہے۔ اس اچانک فیصلے کے بعد یہ سوال اٹھنے لگے ہیں کہ آیا تعلیمی اداروں میں فکری آزادی کے لیے جگہ محدود ہوتی جا رہی ہے۔

 

اطلاعات کے مطابق ممبئی یونیورسٹی کے کالینا کیمپس میں منعقد اس اجلاس کے ایک اہم سیشن میں نصیرالدین شاہ کو بطور مہمانِ خصوصی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم پروگرام شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل ہی انہیں مطلع کیا گیا کہ ان کی نشست منسوخ کر دی گئی ہے اور وہ اجلاس میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے اس فیصلے کی وجہ ’’سیکیورٹی خدشات‘‘ بتائی گئی، تاہم اس سلسلے میں کوئی واضح تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

 

ابتدا میں ایک سرکاری اہلکار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ نصیرالدین شاہ نے خود شرکت سے معذرت کی تھی، لیکن بعد ازاں اداکار نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے ’’غلط اور بے بنیاد‘‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں پروگرام سے محض چند گھنٹے قبل اچانک نشست کی منسوخی کی اطلاع دی گئی اور اس کی کوئی معقول وجہ نہیں بتائی گئی۔

 

نصیرالدین شاہ کی نشست کی منسوخی کا معاملہ اس وقت سرخیوں میں آیا جب معروف صحافی اور ’’وائس آف اردو‘‘ کے روحِ رواں امتیاز خلیل کی جانب سے اس موضوع پر بنایا گیا ویڈیو وائرل ہوا۔ امتیاز خلیل اس پروگرام کے میزبان تھے، جس میں نصیرالدین شاہ کو بطور مہمان شرکت کرنا تھی اور ساحر لدھیانوی اور فیض احمد فیض کی نظموں پر مکالمہ ہونا تھا۔ جب امتیاز خلیل کو نصیرالدین شاہ کی غیر موجودگی کی وجوہات کا علم ہوا تو انہوں نے وائس آف اردو کے لیے ایک ویڈیو تیار کیا، جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گیا۔

 

بعد ازاں یہ ویڈیو نصیرالدین شاہ کے موٹلے گروپ کے آفیشیل فیس بک پیج پر بھی اپلوڈ کی گئی۔ ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد ممبئی کے اردو ادبی حلقوں میں شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا اور نصیرالدین شاہ کی پروگرام سے علیحدگی کا معاملہ خبروں کی زینت بن گیا۔

 

قابلِ ذکر ہے کہ نصیرالدین شاہ اس سے قبل اس اجلاس کے لیے ایک ویڈیو پیغام بھی جاری کر چکے تھے، جس میں انہوں نے اردو زبان اور اس طرح کے علمی و ادبی اجتماعات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اپنی شرکت کی تصدیق کی تھی۔ اس ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ کے مؤقف پر مزید سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

 

تاحال ممبئی یونیورسٹی انتظامیہ یا پروگرام کے انعقاد سے وابستہ کسی شریک تنظیم کی جانب سے اس فیصلے پر کوئی تفصیلی یا تحریری وضاحت جاری نہیں کی گئی، جس کے باعث شکوک و شبہات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اجلاس میں شریک متعدد اساتذہ، ادیبوں اور دانشوروں نے اس اقدام پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کو مکالمے، اختلافِ رائے اور فکری آزادی کے لیے محفوظ اور کھلا ماحول فراہم کرنا چاہیے۔

 

یونیورسٹی انتظامیہ نے البتہ غیر رسمی طور پر یہ وضاحت دی ہے کہ یہ فیصلہ حالات کے پیشِ نظر اور امن و نظم و ضبط کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا اور اس کا مقصد کسی فرد یا نظریے کو نشانہ بنانا نہیں تھا۔ انتظامیہ کے مطابق ادارے کی اولین ترجیح کیمپس میں امن و امان کو برقرار رکھنا ہے۔

 

ادبی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف اردو زبان و ادب کے فروغ کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ تعلیمی اداروں کے جمہوری اور فکری کردار پر بھی سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔ ان کے مطابق اختلافی یا متنوع آرا کا سامنا پابندیوں کے بجائے مکالمے اور بحث کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔

 

واضح رہے کہ ممبئی یونیورسٹی ماضی میں بھی مقررین کے انتخاب اور بعض پروگراموں کے انعقاد سے متعلق اپنے فیصلوں پر تنقید کی زد میں رہی ہے۔ حالیہ واقعہ ایک بار پھر تعلیمی اداروں میں آزادی اظہار اور انتظامی احتیاط کے درمیان توازن کے نازک مسئلے کو اجاگر کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button