نیشنل ہیرالڈ کیس سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے خلاف تازہ ایف آئی آر درج

نئی دہلی: نیشنل ہیرالڈ کیس میں دہلی انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے کانگریس کے سینئر قائدین سمیت دیگر افراد کے خلاف نئی ایف آئی آر درج کی ہے۔ حکام کے مطابق ایف آئی آر ان فورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر درج کی گئی ہے
جس میں سونیا گاندھی، راہل گاندھی اور دیگر چھ افراد کے خلاف سازشی الزامات شامل ہیں۔ای ڈی کے مطابق کانگریس قائد سونیا گاندھی، راہل گاندھی، موتی لال وورا، آسکر فرنانڈیز سومن دوبےکے ساتھ ساتھ ینگ انڈیا ادارے نے بھی سازش اور منی لانڈرنگ میں ملوث بتائے گئے ہیں۔ الزام ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر صرف 50 لاکھ روپے ادا کیے اور
ایسوسی ایٹڈ جرنلسٹ لمیٹڈ کی 2,000 کروڑ روپے مالیت کی پراپرٹی پر کنٹرول حاصل کیا۔موتی لال وورا 2020 میں اور آسکر فرنانڈیز2021 میں انتقال کر گئے تھے۔چارج شیٹ میں مزید بتایا گیا کہ کانگریس پارٹی نے نیشنل ہیرالڈ اخبار شائع کرنے والی ایسوسی ایٹڈ جرنلسٹ لمیٹڈ (AGL) کو 90 کروڑ روپے کا قرض فراہم کیا اور اس کی جائیداد پر قبضہ حاصل کیا۔ راہل اور سونیا کے زیر کنٹرول ینگ
انڈیا نے صرف 50 لاکھ روپے ادا کر کے اے جی ایل پر کنٹرول حاصل کیا۔ای ڈی نے یہ بھی الزام لگایا کہ پارٹی کے سینئر قائدین نے انتخابات میں ٹکٹ دینے،عہدوں پر تقرر کرنے اور کاروباروں کو تحفظ فراہم کرنے کے وعدے کے
عوض مختلف افراد سے غیر قانونی آمدنی حاصل کی۔



