نیشنل

یو جی سی رولز 2026 کے خلاف ملک گیر احتجاج میں شدت

یو جی سی رولز 2026 کے خلاف ملک بھر میں مخالفت مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ اس معاملے پر گرو دیو تپسوی چھاؤنی پیٹھادھیشور جگدگرو پرمہنس آچاریہ نے مرکزی حکومت سے سخت اپیل کی ہے۔ کہ یا تو یو جی سی کے اس ’’کالے قانون‘‘ کو فوری طور پر واپس لیا جائے یا پھر انہیں مرضی سے موت کی اجازت دی جائے۔

 

نئے یو جی سی قوانین کے خلاف احتجاج اب دہلی میں یو جی سی دفتر کے باہر تک پہنچ چکا ہے۔ مظاہرین نے حکومت اور یو جی سی کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے ان قوانین کو طلبہ کے مفادات کے منافی قرار دیا اور فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ اس احتجاج میں بڑی تعداد میں طلبہ، نوجوانوں اور سماج کے مختلف طبقات کے افراد شریک رہے۔

 

اتر پردیش میں بھی اس معاملے پر سیاسی ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ لکھنؤ، رائے بریلی سمیت کئی اضلاع میں بی جے پی کے بعض لیڈروں نے پارٹی عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ وہیں یو پی پی سی ایس افسر الانکار اگنی ہوتری نے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے اور اپنے استعفیٰ کی ایک وجہ شنکر آچاریہ کی توہین کو بتایا ہے۔

 

واضح رہے کہ نئے یو جی سی قواعد کے تحت اب سرکاری کالج ہوں یا خانگی یونیورسٹیاں، ہر تعلیمی ادارے میں ایکوئٹی سیل قائم کرنا لازمی ہوگا۔ یہ سیل ایک طرح کی اندرونی عدالت کے طور پر کام کرے گا۔ اگر کسی طالب علم کو محسوس ہو کہ اس کے ساتھ امتیازی سلوک ہوا ہے تو وہ اس سیل میں شکایت درج کرا سکے گا، اور کمیٹی کی سفارش کی بنیاد پر ادارے کو فوری کارروائی کرنا ہوگی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button