نیشنل

نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کا عمر خالد کو خط، تہاڑ جیل میں قید انسانی حقوق کارکن سے یکجہتی کا اظہار

حیدرآباد _ یکم جنوری ( اردولیکس ڈیسک) نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے انسانی حقوق کے کارکن عمر خالد کو ایک خط لکھا ہے، جو دہلی تشدد سازش کیس میں یو اے پی اے کے تحت الزامات کا سامنا کرتے ہوئے تہاڑ جیل میں قید ہیں۔

 

یہ خط اس روز منظرِ عام پر آیا جب ممدانی نے نیویارک کے میئر کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ وہ تاریخ میں اس منصب پر فائز ہونے والے پہلے مسلم میئر اور کئی نسلوں میں سب سے کم عمر میئر ہیں۔ عمر خالد کے دوستوں نے اس خط کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔

 

خط میں ظہران ممدانی نے لکھا

> عزیز عمر، میں اکثر تمہاری اس بات کو یاد کرتا ہوں کہ دل میں رنج، غصہ اور ناانصافی کی کڑواہٹ کو جمع نہیں ہونے دینا چاہیے، اور یہ بھی کہ انسان کو ان احساسات کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دینا چاہیے۔ تمہارے والدین سے مل کر خوشی ہوئی۔ ہم سب تمہیں یاد کر رہے ہیں۔انہوں نے خط کے اختتام پر کہا: “ہم سب تمہیں یاد کر رہے ہیں۔”

 

واضح رہے کہ عمر خالد اُن ایک درجن سے زائد انسانی حقوق کے محافظوں میں شامل ہیں، جن میں طلبہ کارکنان اور مسلم قائدین بھی شامل ہیں، جن پر 2020 کے دہلی تشدد کی مبینہ سازش سے متعلق مقدمہ درج ہے۔ گرفتاری کو تقریباً چھ برس گزر چکے ہیں، تاہم اب تک ان کا ٹرائل شروع نہیں ہوا۔

 

2023 میں، نیویارک سٹی کے میئر کے انتخاب میں کامیابی سے دو سال قبل، زوہران ممدانی نے نیویارک میں منعقدہ ‘Howdy, Democracy?!’ تقریب کے دوران عمر خالد کی تحریریں پڑھ کر سنائی تھیں۔ یہ خطاب وزیر اعظم نریندر مودی کے 2023 کے نیویارک دورے سے قبل دیا گیا تھا، اُس وقت ممدانی نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے رکن تھے۔

 

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ممدانی نے کہا تھا کہ میں عمر خالد کا ایک خط پڑھنے جا رہا ہوں، جو دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق طالب علم کارکن اور اسکالر ہیں۔ انہوں نے لنچنگ اور نفرت کے خلاف مہم منظم کی۔ وہ ایک ہزار دن سے زائد عرصے سے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کے تحت جیل میں ہیں، اب تک ٹرائل کا سامنا نہیں کیا، جبکہ ان کی ضمانت کی درخواستیں بارہا مسترد کی جا چکی ہیں۔ انہیں قتل کی کوشش کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔

Oplus_16908288

 

متعلقہ خبریں

Back to top button