نیشنل

آن لائن گیمز کی لت نوجوانوں کے لئے موت کا سبب – میرٹھ میں پب جی کھیلتے 22 سالہ کیف ہلاک

لکھنؤ _ آن لائن گیمز اب صرف تفریح تک محدود نہیں رہیں بلکہ نوجوانوں کی جانیں بھی لے رہی ہیں۔  اترپردیش کے شہر میرٹھ کے 22 سالہ محمد کیف کی پب جی کھیلتے ہوئے موت نے مقامی طور پر سنسنی پھیلا دی۔ ڈاکٹروں کے مطابق شدید بلڈ پریشر کے باعث دماغ میں خون بہنے سے یہ واقعہ پیش آیا۔

 

خیر نگر علاقے کے ریئل اسٹیٹ تاجر محمد فاروق کا بیٹا کیف اپنے والد کے کاروبار میں مدد کرتا تھا۔ جمعہ کے روز دفتر میں ائیر فون لگا کر وہ پب جی کھیل رہا تھا کہ اچانک شدید ذہنی دباؤ کے باعث بے ہوش ہوکر گر پڑا۔ ساتھیوں نے فوری طور پر اسے ہاسپٹل منتقل کیا جہاں اس کا بلڈ پریشر 300 سے زیادہ پایا گیا۔

 

حالت نازک ہونے پر کیف کو دہلی کے صفدرجنگ اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ دو دن تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد اتوار کو دورانِ علاج دم توڑ گیا۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ ہائی بلڈ پریشر کے باعث دماغ کی شریان پھٹنے اور اندرونی خون بہنے سے اس کی موت واقع ہوئی۔

 

کیف کے والد نے آبدیدہ ہوکر بتایا کہ وہ زیادہ تر وقت موبائل فون پر گزارتا، گیمز کھیلتا اور ویڈیو ریلز بناتا رہتا تھا، بارہا سمجھانے کے باوجود باز نہیں آتا تھا۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ نوجوان اور طلبہ آن لائن گیمز کے بڑھتے رجحان سے محتاط رہیں اور والدین اپنے بچوں کے موبائل استعمال پر نظر رکھیں۔

 

اس واقعہ سے چند دن قبل غازی آباد میں بھی ایک افسوسناک سانحہ پیش آیا، جہاں بھارت سوسائٹی میں رہنے والی تین بہنوں نے مبینہ طور پر کوریائی ڈراما گیم کی لت کے باعث نویں منزل سے کود کر خودکشی کرلی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button