“محمد دیپک” سے راہول گاندھی کی ملاقات — انسانیت کے جذبہ کو ملی دہلی میں داد
نئی دہلی _ کانگریس قائدِ راہول گاندھی نے نئی دہلی میں اتراکھنڈ کے نوجوان دیپک کمار سے ملاقات کی، جو حالیہ دنوں “محمد دیپک” کے نام سے سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنے ہوئے ہیں۔
کوڈوار (اتراکھنڈ) میں جم چلانے والے دیپک کمار اس وقت سرخیوں میں آئے جب انہوں نے ایک معمر مسلم تاجر کو مبینہ طور پر ہراسانی سے بچانے کے لیے مداخلت کی۔ اطلاعات کے مطابق چند کارکنان دکان کے نام میں شامل لفظ “بابا” ہٹانے کا مطالبہ کر رہے تھے، جس پر کشیدگی پیدا ہوگئی۔ اسی دوران دیپک موقع پر پہنچے اور 70 سالہ تاجر وکیل احمد کے حق میں کھڑے ہوگئے، جس کے بعد معاملہ بڑھا اور پولیس کو مداخلت کرنا پڑی۔ واقعہ کے سلسلے میں تین الگ الگ ایف آئی آر درج کی گئیں۔
کانگریس پارٹی نے اس ملاقات کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے دیپک کے اقدام کو اتحاد، بھائی چارے اور جرأت کی علامت قرار دیا۔ پارٹی کی جانب سے کہا گیا کہ ملک کے نوجوانوں کو ناانصافی اور نفرت کے خلاف آواز بلند کرنے میں دیپک سے حوصلہ لینا چاہیے۔
ملاقات کے بعد دیپک کمار نے میڈیا کو بتایا کہ راہول گاندھی نے ان کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک درست قدم اٹھایا ہے اور انہیں کسی دباؤ یا خوف کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں۔ دیپک کے مطابق، انہیں دہلی مدعو کیا گیا جہاں راہول گاندھی نے ان کی اہلیہ اور اہلِ خانہ سے بھی بات کی اور حوصلہ افزائی کی۔ دیپک نے یہ بھی بتایا کہ انہیں سونیا گاندھی سے ملنے کا موقع ملا اور راہول گاندھی نے کوڈوار آکر ان کے جم کی رکنیت لینے کا وعدہ بھی کیا۔
دیپک کا کہنا تھا کہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، تاہم انہیں خوشی ہے کہ انسانیت کے جذبے کے تحت کیے گئے اقدام کو سراہا گیا۔ واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر انہیں غیر معمولی توجہ ملی، اگرچہ بعض حلقوں کی جانب سے تنقید اور مہم کا سامنا بھی کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں ان کے جم کی رکنیت متاثر ہوئی۔
راہول گاندھی، جو ملک میں “محبت کی دکان” کے پیغام کو فروغ دینے کی مہم چلا رہے ہیں، نے دیپک کو یقین دلایا کہ نفرت کے خلاف کھڑے ہونے والوں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ دیپک کے مطابق، کوڈوار میں اب حالات پہلے سے بہتر ہیں اور کشیدگی میں کمی آئی ہے۔




