امریکہ سے جنگ ہوئی تو پاکستان کا ساتھ دیں گے – راجستھان بی جے پی صدر کے بیان پر ہنگامہ، کانگریس اور عاپ برہم
نئی دہلی: راجستھان بی جے پی کے صدر مدن راٹھور نے یہ بیان دے کر سیاسی تنازعہ کھڑا کردیا کہ اگر پڑوسی ملک پاکستان اور امریکہ کے درمیان جنگ چھڑ جائے تو ہندوستان پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ ان کے اس بیان پر کانگریس اور عام آدمی پارٹی نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
مدن راٹھور نے جے پور میں ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے ہندوستان کا پڑوسی ملک ہونے کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا، ’’ہم سب کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جب ہندوستان کی بات آتی ہے تو اگر آج امریکہ اور پاکستان کے درمیان جنگ چھڑ جائے تو ہم پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوں گے، کیونکہ وہ ہمارا پڑوسی ہے۔ لیکن جب ہمارے آپسی معاملات کی بات آتی ہے تو ہم اپنے ہندوستان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ ہے نا؟ ہمیں یہی بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔‘‘
ان کے اس بیان پر اپوزیشن جماعتوں نے تنقید کی۔ کانگریس کی ترجمان شما محمد نے مدن راٹھور کو ’’ملک مخالف‘‘ قرار دیا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’بی جے پی کی دہشت گرد ملک پاکستان سے محبت ایک بار پھر سامنے آگئی ہے، جو ہمارے فوجیوں اور عوام کو ہلاک کرتا ہے۔ راجستھان بی جے پی کے صدر مدن راٹھور کہتے ہیں کہ اگر امریکہ اور پاکستان کے درمیان جنگ ہوئی تو وہ پاکستان کے ساتھ ہوں گے۔ ہمیں بتایا جائے کہ اس ملک مخالف شخص کے خلاف کیا کارروائی کی جارہی ہے۔‘‘
اروند کیجریوال کی قیادت والی عام آدمی پارٹی نے بھی مدن راٹھور کے بیان کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
پارٹی نے کہا، ’’بی جے پی کے راجستھان ریاستی صدر مدن راٹھور کا بیان ہے کہ اگر امریکہ اور پاکستان کے درمیان جنگ چھڑ گئی تو ہم پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوں گے! جب عوام سوال کرتے ہیں تو انہیں پاکستانی قرار دیا جاتا ہے،
جب نوجوان اپنی آواز اٹھاتے ہیں تو انہیں دہشت گرد کہا جاتا ہے! لیکن جب بی جے پی کا کوئی لیڈر پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کی بات کرتا ہے تو نریندر مودی کی قوم پرستی کہاں چلی جاتی ہے؟ مسٹر مودی! کیا پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کی بات کرنے والی بی جے پی غدار ہے یا نہیں؟‘‘



