رام نومی جلوس کے دوران مرشدآباد میں تصادم، پتھراؤ اور آتشزنی سے کشیدگی
مغربی بنگال کے مرشدآباد ضلع کے جنگی پور سب ڈویژن کے رگھوناتھ گنج علاقے میں جمعہ کے روز رام نومی جلوس کے دوران مبینہ طور پر بی جے پی اور سنگھ پریوار سے وابستہ افراد کے تشدد کے نتیجہ میں حالات کشیدہ ہوگئے۔ مشتعل افراد نے تقریباً 40 دکانوں میں توڑ پھوڑ کی اور کئی کو آگ کے حوالے کردیا، جس سے اسمبلی انتخابات سے قبل فرقہ وارانہ تناؤ میں اضافہ کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
انگریزی ویب سائٹِ ٹیلی گراف آن لائن کی رپورٹ کے مطابق فلٹالا علاقہ، جو جنگی پور سب ڈویژنل اسپتال کے قریب واقع ہے اور جہاں مسلم آبادی اکثریت میں ہے، اس واقعہ کا مرکز بنا۔ بتایا جاتا ہے کہ رام نومی جلوس جب تیز موسیقی اور رقص کے ساتھ ایک مسجد کے قریب سے گزرا، اس وقت جمعہ کی نماز جاری تھی، جس پر اعتراض کے بعد دونوں جانب تلخ کلامی ہوئی اور صورتحال بگڑ گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق ہجوم نے مسلم مکانات کی چھتوں پر چڑھ کر زعفرانی جھنڈے لہرائے، دکانوں کو نشانہ بنایا اور مقامی افراد پر حملے کئے۔ تشدد کا مقام پولیس اسٹیشن سے محض 500 میٹر کے فاصلے پر تھا، تاہم مقامی افراد کا الزام ہے کہ پولیس اور مرکزی فورسز کی موجودگی کے باوجود کافی دیر تک کارروائی نہیں کی گئی اور بعد میں حالات قابو سے باہر ہونے پر لاٹھی چارج کیا گیا۔
تشدد میں زخمی ہونے والوں میں جنگی پور میونسپلٹی کے ملازم ابوالشیخ بھی شامل ہیں، جنہیں لوہے کی سلاخوں سے حملہ کرکے شدید زخمی کردیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ موٹر سائیکل پر گھر جا رہے تھے کہ جلوس کے قریب پہنچنے پر انہیں روک کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کی گاڑی کو بھی آگ لگا دی گئی۔
دوسری جانب بی جے پی کے مقامی صدر سبل چندر گھوش نے الزام عائد کیا کہ واقعہ دوسری جانب کی اشتعال انگیزی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال رام نومی جلوس نکالا جاتا ہے، تاہم اس بار کچھ افراد نے جلوس کو روکنے کی کوشش کی جس سے کشیدگی پیدا ہوئی۔
جنگی پور پولیس ضلع کے سپرنٹنڈنٹ سرندر سنگھ نے کہا کہ واقعہ کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ہجوم کو منتشر کیا اور معاملہ کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں، تاہم اب تک کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔
اسی دوران جنگی پور کے رکن اسمبلی اور ترنمول کانگریس کے امیدوار ذاکر حسین نے الزام لگایا کہ انتخابات سے قبل فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کی دانستہ کوشش کی گئی ہے اور ذمہ داروں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق حالیہ برسوں میں مغربی بنگال میں رام نومی جلوس سیاسی رنگ اختیار کر چکے ہیں، اور خاص طور پر مخلوط آبادی والے اضلاع میں ان کے دوران پیش آنے والے واقعات کو سیاسی حکمت عملی کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے، جس سے سماجی ہم آہنگی پر اثر پڑنے کا اندیشہ ہے۔



