دہلی کے لال قلعہ بم دھماکہ کیس میں چار ڈاکٹرس کی رجسٹریشن منسوخ، گھر کو دھماکے سے تباہ کیا گیا

دہلی کے لال قلعہ بم دھماکہ کیس میں چار ڈاکٹرس کی رجسٹریشن منسوخ، گھر کو دھماکے سے تباہ کیا گیا
دہلی کے لال قلعہ کے قریب ہوئے بم دھماکے کے مرکزی ملزم، ڈاکٹر عمر-اُن-نبی المعروف عمر محمد کے گھر کو دھماکوں سے تباہ کر دیا۔ اسی کیس میں ایک اور اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ دہشت گرد گروہ سے وابستہ چار ڈاکٹرس کے خلاف نیشنل میڈیکل کونسل نے کارروائی کرتے ہوئے ان کی رجسٹریشن منسوخ کر دی ہے
۔ ان ڈاکٹرس کو اب ملک میں کہیں بھی طبی پیشہ ورانہ خدمات انجام دینے کی اجازت نہیں ہے۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ دہشت گردی مخالف قوانین کے تحت درج ایف آئی آرز، جموں و کشمیر پولیس سے حاصل معلومات اور ریاستی میڈیکل کونسل کی رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا۔
منسوخ ہونے والے ڈاکٹرس میں ڈاکٹر مظفر احمد، ڈاکٹر عدیل احمد رادر، ڈاکٹر مزمل شکیل اور ڈاکٹر شاہین سعید۔ شامل ہیں میڈیکل کونسل کے احکامات کے مطابق، ان کے نام انڈین میڈیکل رجسٹری اور نیشنل میڈیکل رجسٹری سے فوری طور پر ہٹا دیے گئے ہیں۔ میڈیکل کونسل نے اپنے حکم میں واضح کیا کہ یہ چاروں ڈاکٹرس دہلی میں لال قلعہ کے قریب کار دھماکے سے وابستہ تھے۔



