نیشنل

’مِرزا ایکسپریس‘ فیم معروف مراٹھی شاعر ڈاکٹر مِرزا رفیع احمد بیگ کا انتقال

ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ آکولہ

امرائوتی ، ۲۸نومبر (ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ کی رپورٹ) مہاراشٹر کے ادبی آسمان پر اپنی منفرد مزاحیہ شاعری اور بے مثال اسٹیج فنکاری سے ایک خاص پہچان بنانے والے ملک کے معروف شاعر، مزاح کا شہنشاہ اور ’’مِرزا ایکسپریس‘‘ کے بانی ڈاکٹر مِرزا رفیع احمد بیگ آج (جمعہ، 28 نومبر) صبح ساڑھے چھ بجے امراوتی میں طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے۔ ان کی عمر 68 برس تھی۔

 

 

گزشتہ کئی مہینوں سے وہ گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے اور امراوتی میں زیرِ علاج تھے۔ ان کے انتقال کی خبر سے مہاراشٹر کے ادبی و ثقافتی حلقوں میں گہرا رنج اور افسوس پھیل گیا ہے۔ڈاکٹر مِرزا کا تعلق ایوت محل ضلع کے تعلقہ نیر کے گاؤں دھنّج–مانیکواڑہ سے تھا۔ وہ طویل عرصے سے امراوتی کے ولگائو روڈ پر واقع نوساری علاقے میں اپنے گھر ’’مِرزا ایکسپریس‘‘ میں مقیم تھے۔ ان کے پس ماندگان میں اہلیہ فاطمہ مِرزا، انجینئر بیٹا رمیز اور دو صاحبزادیاں مہ جبین اور ہما شامل ہیں۔ ان کی تدفین امراوتی کے عیدگاہ قبرستان میں دوپہر دو بجے عمل میں آئی۔

 

 

ڈاکٹر مِرزا رفیع احمد بیگ مہاراشٹر، خصوصاً ودربھ اور مراٹھواڑہ میں مشاعروں کی جان سمجھے جاتے تھے۔ ’’مِرزا ایکسپریس‘‘ کے نام سے ان کی مزاحیہ کلام پر مبنی محفلیں ریاست بھر میں بے حد مقبول رہیں۔ انہوں نے چھ ہزار سے زائد مشاعروں اور شعری نشستوں میں اپنا فن پیش کیا، جبکہ ان کے بیس (20) شعری مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ وہ ودربھ ساہتیہ سَمَیلَن کے صدر بھی رہ چکے تھے۔ان کی زبان کی شیرینی، برجستہ مزاح، دیہی لہجے کی کھری اور فطری کہانی سنانے کا انداز، اور سماجی مسائل پر ہلکے پھلکے مگر نہایت مؤثر طنزیہ جملوں نے ان کو عوام میں بے انتہا محبوب بنا رکھا تھا۔ ڈاکٹر مِرزا 17 ستمبر 1957 کو پیدا ہوئے۔ محض گیارہ سال کی عمر میں انہوں نے شاعری کا آغاز کیا

 

 

اور 1970 سے اسٹیج پر کلام سنانا شروع کیا۔ گزشتہ پچاس برس میں وہ ودربھ اور مراٹھواڑہ کے مشاعروں کا لازمی مرکز بن گئے تھے۔ کھیتی، مٹی، دیہات، کسانوں کے مسائل، سیاسی تضادات اور سماجی ناانصافی جیسے موضوعات کو وہ نہایت نرم، شگفتہ اور دلکش مزاح کے ساتھ پیش کرتے تھے۔ مراٹھی اور ورہاڈی زبان سے ان کو خاص شغف تھا اور ان کی محفلوں نے ورہاڈی زبان کی پہنچ کو ملک بھر میں بڑھایا۔ ان کی کئی نظمیں اور شعر مثلاً ’’موٹھا مَنس‘‘، ’’ساتوا مہینا‘‘، ’’اُٹھ آتا گنپت‘‘ اور ’’جانگڈبُتّا‘‘ خاص طور پر مقبول ہوئے، جبکہ

 

 

’’جانگڈبُتّا‘‘ لفظ کے وہ خود موجد تھے۔ ڈاکٹر مِرزا ودربھ کے معروف روحانی مرکز فقیروجی مہاراج مندر ٹرسٹ کے بھی ٹرسٹی تھے۔ ان کے والد مِرزا رَزّاق بیگ عرف بھائی جی ایوت محل ضلع کی ایک مؤثر سماجی اور سیاسی شخصیت تھے۔ ناگپور کے نامور سینئر قانون دان ایڈوکیٹ فردوس مِرزا ان کے چچا زاد بھائی ہیں۔ ڈاکٹر مِرزا کے اخباری کالم ’’مِرزا جی کہین‘‘ کو قارئین میں غیر معمولی مقبولیت حاصل تھی۔ ان کے مزاحیہ قصے، سماجی طنز، فلسفیانہ اشارے اور شگفتہ انداز بیان نے ان کے ہر پروگرام کو یادگار بنا دیا۔ریاست کے دارالحکومت ممبئی سے لے کر ملک کی راجدھانی دہلی تک ان کے

 

 

پروگراموں کی طلب ہمیشہ برقرار رہی۔ مراٹھی ادب میں مزاح کے جس فن کو انہوں نے نیا آہنگ دیا، وہ آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گا۔ڈاکٹر مِرزا رفی احمد بیگ کا انتقال نہ صرف ودربھ بلکہ پورے مہاراشٹر کے لیے ایک بڑا ادبی نقصان ہے۔ مزاح، شائستگی، دیہی بولیوں کی خوشبو اور انسانی درد

 

 

کو اپنے منفرد فن کے ذریعے پیش کرنے والے ڈاکٹر مِرزا اپنے مداحوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button