نیشنل

ایران سپریم لیڈر کی شہادت کے خلاف احتجاج۔ کشمیر کے تمام اسکولس، کالج اور یونیورسٹیاں دو دن کے لیے بند

"ایران سپریم لیڈر کی شہادت کے خلاف احتجاج۔ کشمیر کے تمام اسکولس، کالج اور یونیورسٹیاں دو دن کے لیے بند”

نئی دہلی: تہران پر اسرائیل،امریکہ کے حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد اتوار کو ہندوستان کے مختلف شہروں میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے۔

 

کشمیر، لکھنؤ، دہلی اور رانچی سمیت کئی مقامات پر لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے اور ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ بعض جگہوں پر دعائیہ اجتماعات اور تعزیتی نشستیں بھی منعقد کی گئیں۔

 

کشمیر میں جاری احتجاج کے پیش نظر انتظامیہ نے وادی کے تمام اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں دو دن کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا۔

 

جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد عوام سے اپیل کی کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور کسی بھی اشتعال انگیزی سے گریز کریں۔

 

انہوں نے کہا کہ پولیس اور سکیورٹی ادارے نظم و نسق کو برقرار رکھنے کے لیے پوری طرح مستعد ہیں۔دہلی میں شیعہ جامع مسجد کے امام مولانا محمد علی محسن تقوی نے آیت اللہ علی خامنہ ای کو عالم اسلام کی اہم شخصیت قرار دیتے ہوئے

 

تعزیتی اجتماع کا اعلان کیا۔ آل انڈیا امام اسوسی ایشن کے صدر ساجد رشیدی نے بین الاقوامی احتساب کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی قوانین کی پاسداری ضروری ہے۔

 

لکھنؤ میں مظاہرین نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی اور کہا کہ وہ ایران کے ساتھ کھڑے ہیں۔ شیعہ برادری کے رہنما سید ثمر کاظمی نے کہا کہ خامنہ ای نے فلسطین کے مسئلے پر آواز بلند کی تھی۔

"ایران سپریم لیڈر کی شہادت کے خلاف احتجاج۔ کشمیر کے تمام اسکولس، کالج اور یونیورسٹیاں دو دن کے لیے بند”

متعلقہ خبریں

Back to top button