نیشنل

مسلمانوں کو نشانہ بنانے والی آسام کے چیف منسٹر کی ویڈیو کا معاملہ – سپریم کورٹ نے سماعت کے لئے درخواست منظور کر لی

سپریم کورٹ نے منگل کے روز بائیں بازو کی جماعتوں سی پی آئی(ایم) اور سی پی آئی کے قائدین کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر سماعت کے لئے آمادگی ظاہر کر دی، جس میں آسام کے چیف منسٹر ہمنت بسوا سرما کے خلاف ریاستی بی جے پی کے سوشل میڈیا ہینڈل پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ اس ویڈیو میں چیف منسٹر کو مبینہ طور پر ایسے افراد پر رائفل تان کر فائرنگ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جو بظاہر مسلم برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔

 

درخواست میں آسام میں بنگالی بولنے والی مسلم برادری کے خلاف چیف منسٹر کی مبینہ نفرت انگیز تقاریر کے سلسلے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

 

چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت، جسٹس جومالیا باغچی اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل بنچ نے بائیں بازو کے قائدین کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نظام پاشا کے دلائل کا نوٹس لیا۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ آسام کے موجودہ چیف منسٹر کی اشتعال انگیز تقاریر کے تناظر میں عدالت کی فوری مداخلت ضروری ہے، جن میں حالیہ ویڈیو بھی شامل ہے جہاں انہیں ایک مخصوص برادری کے افراد پر فائرنگ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جبکہ شکایات درج ہونے کے باوجود ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔

 

اس پر چیف جسٹس سوریہ کانت نے ریمارکس دیے کہ جیسے ہی انتخابات قریب آتے ہیں، انتخابی معرکے کا ایک حصہ سپریم کورٹ میں بھی لڑا جانے لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت معاملے کا جائزہ لے کر سماعت کی تاریخ مقرر کرے گی۔

 

دوسری جانب آسام کانگریس نے بھی منگل کو اس وائرل ویڈیو کے خلاف برسرِ اقتدار بی جے پی کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی۔ گوہاٹی کے ڈسپور پولیس اسٹیشن میں کانگریس کے ارکانِ اسمبلی سبامونی بورا اور دگنتا برمن کی جانب سے دائر شکایت میں کہا گیا کہ ویڈیو نہایت اشتعال انگیز اور فرقہ وارانہ نوعیت کی ہے، جو سماجی ہم آہنگی کو متاثر کر سکتی ہے۔

 

حذف کی جا چکی اس ویڈیو کو آسام بی جے پی کے ‘ایکس’ ہینڈل پر “پوائنٹ بلینک شوٹ” کے کیپشن کے ساتھ پوسٹ کیا گیا تھا، جس میں چیف منسٹر کی حقیقی فائرنگ کی فوٹیج کو داڑھی اور ٹوپی پہنے افراد کی اے آئی سے تیار کردہ تصاویر کے ساتھ جوڑا گیا تھا، جو مسلمانوں کی نمائندگی کرتی دکھائی دیتی تھیں۔

 

ویڈیو میں دکھائے گئے متن میں “فارنر فری آسام”، “کوئی رحم نہیں”، “تم پاکستان کیوں نہیں گئے؟” اور “بنگلہ دیشیوں کے لیے کوئی معافی نہیں” جیسے جملے شامل تھے۔

 

اس ویڈیو پر سیاسی جماعتوں، سماجی کارکنوں اور صحافیوں کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا، جس کے بعد بی جے پی نے ویڈیو کو ہٹا دیا۔

 

کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے اس ویڈیو کو “نسل کشی کی اپیل” قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی، جبکہ پارٹی ترجمان سپریا شرینیت نے کہا کہ اس سے بی جے پی کا اصل چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے اور زعفرانی جماعت کو “اجتماعی قاتل” قرار دیا۔

 

وینوگوپال نے ‘ایکس’ پر لکھا کہ بی جے پی کے سرکاری ہینڈل سے اقلیتوں کے “پوائنٹ بلینک” قتل کو دکھانے والی ویڈیو شیئر کی گئی، جو دراصل نسل کشی کی کھلی اپیل ہے—ایک ایسا خواب جسے ان کے بقول فسطائی نظام برسوں سے دیکھتا آ رہا ہے۔

 

سپریا شرینیت نے اپنے بیان میں کہا کہ یہی بی جے پی کی حقیقی پہچان ہے: “اجتماعی قاتل”۔ انہوں نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ زہر، نفرت اور تشدد آپ کے کھاتے میں جاتا ہے، اور سوال اٹھایا کہ کیا عدالتیں اور دیگر ادارے سو رہے ہیں؟

 

یہ ویڈیو ایسے وقت سامنے آئی جب آسام کے چیف منسٹر بنگالی بولنے والی مسلم برادری کے خلاف مبینہ نفرت انگیز تقاریر کے سلسلے پر پہلے ہی تنقید کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں ایک بیان یہ بھی شامل بتایا گیا کہ ان کا کام “انہیں تکلیف میں مبتلا کرنا” ہے۔

 

مسلم تنظیم جمعیۃ علمائے ہند نے بھی سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف چیف منسٹر کے بیانات فرقہ وارانہ، غیر آئینی اور ایک اعلیٰ آئینی عہدے پر فائز شخص کی جانب سے نفرت انگیز تقریر کے مترادف ہیں۔

 

دریں اثنا آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اور رکنِ پارلیمنٹ حیدرآباد بیرسٹر اسدالدین اویسی نے پیر کے روز آسام کے چیف منسٹر کے خلاف پولیس میں شکایت درج کراتے ہوئے انہیں آئینی حکمرانی کو تعصب اور دھمکی میں بدلنے کا ذمہ دار قرار دیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button