نیشنل

سوشل میڈیا پر ملزمین کی ویڈیوز شیئر کرنا خطرناک — سپریم کورٹ کی سخت تنبیہ، عوامی رائے متاثر ہونے کا خدشہ

موبائل فونس میں ریکارڈ کی گئی ویڈیوز کو عوام کی جانب سے فوری طور پر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے رجحان پر سپریم کورٹ نے تنقید کی ہے۔ عدالت نے تشویش ظاہر کی کہ اس طرح کے اقدامات شفاف تحقیقات کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

 

سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی تھی جس میں الزام لگایا گیا کہ پولیس ملزمان کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر کے عوام کی رائے کو متاثر کر رہی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ پہلے ہی ریاستوں کو ہدایت دے چکی ہے کہ کسی بھی کیس میں پولیس کی میڈیا بریفنگ کے لیے رہنما اصول (گائیڈ لائنز) تیار کئے جائیں۔

 

درخواست میں مطالبہ کیا گیا کہ ان رہنما اصولوں میں سوشل میڈیا کو بھی شامل کیا جائے۔ اس معاملے کی سماعت کے دوران عدالت نے اہم ریمارکس دیے۔ عدالت نے کہا کہ ہتھکڑیاں لگائے ہوئے، رسیوں سے باندھے گئے یا گھٹنوں کے بل بٹھائے گئے ملزمان کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنا ان کی عزت کو ٹھیس پہنچاتا ہے اور عوام کی سوچ پر اثر انداز ہوتا ہے۔

 

سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ "ہم قوانین کے ذریعے پولیس کو تو کنٹرول کر سکتے ہیں، لیکن سوشل میڈیا اور عوام کا کیا؟ کیا ہم انہیں بھی کنٹرول کر سکتے ہیں؟”عدالت نے اس معاملے پر مزید تفصیلی غور و فکر کی ضرورت پر زور دیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button