نیشنل

مٹھائی پر جھگڑا، مسجد کا تقدس پامال — میرٹھ واقعہ ہم سب کے لئے لمحۂ فکر

لکھنؤ _ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمس پر گزشتہ دو دن سے ایک ویڈیو وائرل ہورہا ہے جس کو ایک مسجد کا ویڈیو بتایا گیا ہے اس تعلق سے بعض ہندی اور انگریزی ویب سائٹ نے اطلاع دی کہ اترپردیش کے میرٹھ کے ہاپوڑ روڈ پر واقع ایک مسجد میں  پیر کی رات نماز کے بعد تنازعہ پُرتشدد جھڑپ میں بدل گیا۔ تراویح کے دوران قرآنِ شریف مکمل ہونے پر لڈو تقسیم کرنے کے معاملے پر دو فریقوں میں تکرار شروع ہوئی جو جلد ہی مارپیٹ تک جا پہنچی۔

 

عینی شاہدین کے مطابق پہلے بحث ہوئی، پھر چند نوجوانوں نے ایک نمازی سے ہاتھاپائی کی، جس کے بعد دونوں طرف کے افراد آمنے سامنے آگئے۔ الزام ہے کہ کچھ لوگوں کو زمین پر گرا کر مارا گیا اور بیلٹ کا بھی استعمال کیا گیا، جس سے مسجد میں افراتفری پھیل گئی۔ جھڑپ کے دوران ایک بچہ بھی بیچ میں پھنس گیا اور خوف کے باعث چیختا رہا۔

 

واقعے کی ویڈیو ایک نمازی نے موبائل فون میں ریکارڈ کی، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ پولیس اسٹیشن انچارج نیترا پال سنگھ نے بتایا کہ معاملہ ان کے علم میں نہیں تھا، تاہم سی سی ٹی وی فوٹیج موصول ہوئی ہے اور اسی کی بنیاد پر جانچ کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ کی تصدیق ہونے پر قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

 

یہ واقعہ میرٹھ کا ہے یا کسی اور مقام کا لیکن ہمیں اس بات کا خیال رکھنا آکھے کہ عبادت گاہیں امن، صبر اور بھائی چارے کا پیغام دیتی ہیں۔ معمولی اختلاف کو برداشت اور حکمت سے حل کرنے کے بجائے تشدد کا راستہ اختیار کرنا نہ صرف مسجد کے تقدس کو مجروح کرتا ہے بلکہ سماج میں غلط پیغام بھی دیتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے رویوں کا جائزہ لیں اور مذہبی مقامات کے احترام اور باہمی اتحاد کو ہر حال میں مقدم رکھیں۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button